اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن فیصلے وزیر اعظم، کابینہ لیتی ہے، فواد چوہدری

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرقیادت حکومت کی پالیسی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے بہت زیادہ متاثر ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ تمام فیصلوں کی انچارج ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا حکومت کے تحت آزادی اظہار اور پریس کا دفاع کیا اور ملک میں صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو رد کردیا۔پروگرام کے میزبان اسٹیفن نے فرزانہ شیخ کا حوالہ دیا جو برطانیہ میں تھنک ٹینک میں بطور تجزیہ کار ہیں۔میزبان نے فرازنہ شیخ کے اس بیان پر فواد چوہدری سے تبصرہ کرنے کا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘اس حکومت (پی ٹی آئی) کی نمایاں بات کیا ہے کہ وہ فوج سے آزادانہ پالیسی چلاتی ہے، سابقہ حکومتیں بحث کیا کرتی تھیں لیکن عمران خان کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ جس طرح کہا گیا وہ اسی طرح کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں’۔اس حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘یہ بعض بھارتی متاثرہ تھنک ٹینک کا تصور ہوسکتا ہے، پاکستان میں ایسا تاثر نہیں ہے اور آزاد لوگوں میں یہ خیال نہیں ہے’۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزرائے اعظم میں سے ایک ہیں، انہیں 20 کروڑ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں، وہ فیصلے کرتے ہیں، کابینہ فیصلہ کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اور ہاں، ہمارے نام نہاد اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں وہ پاکستان کے نظام کا اہم حصہ، ان کا احترام کرتے ہیں لیکن فیصلہ سازی وزیر اعظم اور کابینہ پر ہے۔صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات اور صحافی اسد علی طور پر حملے سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے شاید پاکستان سب زیادہ آزادی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہاں ایک واقعہ پیش آیا ہے میں نے گزشتہ رات اس واقعے کا نوٹس لیا اور سینئر پولیس افسران کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ہدایت دی، ہمیں ان لوگوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے جو اس میں ملوث تھے، ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا’۔فواد چہدری نے مزید کہا کہ جب بھی اس طرح کا واقعہ ہوتا ہے مغربی میڈیا آئی ایس آئی پر الزام لگانا اپنا ‘فیشن’ سمجھتی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ‘مجھے معلوم ہے کہ بیرون ملک جانے والے لوگوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نام استعمال کرتے ہیں’۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا انفرادی سطح پر ایسے واقعات پیش آتے ہیں اور یہ معاملہ محض پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا کا بھی ہے۔فواد چودہری نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم عمران کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صحافیوں پر حملوں کی تعداد حقیقی معنوں میں کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘اور جب آپ کسی پاکستانی تنظیم یا خفیہ ایجنسی کا نام لیتے ہیں تو اس ضمن میں ثبوت پیش کرنے کے پابند ہوں گے’۔پاکستانی حکام کی طرف سے ریاستی مداخلت کے بعد نجی چینل ‘آج ٹی وی’ پر بی بی سی اردو نشریات کی منسوخی سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’ اگر ہم نے اتنا جارحانہ انداز میں سوچتے جیسے آپ نے ابھی بی بی سی کے بارے میں ذکر کیا تو ہم بی بی سی ورلڈ کو نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے جسے ملک میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے لیکن ہم اس کی نشریات پر کبھی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے۔انہوں نے کہا کہ جب اردو ٹی وی چینل کا معاملہ آتا ہے تو میڈیا آرگنائزیشن کو ‘کچھ مقامی قوانین کی پاسداری’ کرنی ہوگی۔پروگرام کے میزبان نے سوال کیا کہ ‘کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب صحافیوں پر حملے یا سنسرشپ جیسے امور کی بات آتی ہے تو وزیر اطلاعات کی حیثیت سے آپ کے اختیارات حقیقی طاقت نہیں رکھتے ؟ پاکستانی ریاست میں دوسرے عناصر بھی موجود ہیں، کچھ ان کو ‘ڈیپ اسٹیٹ’ کہتے ہیں، اور ان کے اختیار آپ سے کئی زیادہ ہیں’۔فواد چوہدری نے امر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘دنیا کے 5 ویں بڑی ریاست کے وزیر اطلاعات ہیں جو دنیا کی 7 ویں جوہری ہتھیار سے لیس ریاستوں میں سے ایک ہے، کوئی بھی میرے اختیارات کو مجروح کرنے کی جرات نہیں کرسکتا، میں مکمل اختیار رکھتا ہوں اور کیا ہوگا اس کے بابت فیصلہ کرتا ہوں’۔

‘پی ٹی آئی کی حکومت میں بہت کم افراد لاپتا ہوئے’

لاپتا ہونے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور پاک فوج انسانی حقوق کا اتنا ہی احترام کرتی ہے جتنا کسی بھی جمہوری حکومت کو کرنا چاہیے، پاک فوج دنیا کی سب سے زیادہ ذمہ دار اور مہذب فوج میں سے ایک فوج ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتا ہونے والے زیادہ تر افراد ‘دراصل رضاکارانہ طور پر افغانستان یا جنگ زدہ علاقوں میں چلے گئے اور جب وہ لوگ لاپتا ہوئے تو آپ کو ان کی تلاش کے لیے ایجنسی اور ریاست کو استعمال کرنا پڑتاہے’۔لاپتا ہونے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ آئی ایس آئی اور پاک فوج انسانی حقوق کا اتنا ہی احترام کرتی ہے جتنا کسی بھی سول حکومت کو کرنا چاہیے، پاک فوج دنیا کی سب سے زیادہ ذمہ دار اور مہذب فوج میں سے ایک فوج ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتا ہونے والے زیادہ تر افراد ‘دراصل رضاکارانہ طور پر افغانستان یا جنگ زدہ علاقوں میں چلے گئے اور جب وہ لوگ لاپتا ہوئے تو آپ کو ان کی تلاش کے لیے ایجنسی اور ریاست کو استعمال کرنا پڑتاہے’۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ‘میں آپ کو بتاتا ہوں، عمران خان کی حکومت میں لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد انتہائی کم ہے، ہم واحد حکومت ہیں جنہوں نے صرف گمشدگی کے خلاف ایک قانون پاس کیا’۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے غیر قانونی قید کو ایک جرم میں بدل دیا اور کابینہ نے اس بل کو منظور بھی کرلیا ہے جو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔پاکستان میں سست روی سے دوچار کورونا ویکسینیشن مہم سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بہترین مثال ہے جہاں وبائی امراض سے متعلق پالیسیاں بہت سارے ممالک کے مقابلے میں بہتر ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے 55 لاکھ شہریوں کو ویکسین دی جا چکی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں تک کووڈ کا تعلق ہے تو پاکستان ایک بہت بڑی کامیابی کی کہانی ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں