مظفرآباد: مسافر بس دریائے جہلم کے کنارے جاگری، 10افراد جاں بحق

مظفر آباد کے جنوب میں مسافر بس سیکڑوں فٹ کھائی سے دریائے جہلم کے کنارے جا گرنے سے 10 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے ہیں۔افسوسناک واقعہ ہفتے کی صبح پیش آیا جب ایک مسافر بس خستہ حال شاہراہ سے گزررہی تھی اور اس دوران سیکڑوں فٹ نیچے گرگئی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ مسافر برس دریائے جہلم کے کنارے گری۔اس حوالے سے چتر کلاس پولیس اسٹیشن میں تعینات ایک اہلکار محمد قدیر نے ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ حادثہ مظفر آباد کوہالہ روڈ پر مظفر آباد سے 24 کلو میٹر جنوب میں واقع زمی آباد گاؤں کے قریب پیش آیا۔بس میں تقریباً 25 افراد پر سوار تھے اور راولپنڈی سے لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع وادی جہلم کے آخری گاؤں چاکوٹھی جارہی تھی۔محمد قدیر نے بتایا کہ وہاں موجود ایک شخص نے حادثے سے متعلق مظفرآباد میں ریسکیو 15 کو اطلاع دی۔انہوں نے بتایا کہ تھانہ کا پورا عملہ اور کوہالہ میں تعینات پولیس اہلکار حادثے کے مقام پر پہنچ گئے تاکہ امدادی سرگرمیاں شروع کی جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ کم سے کم 5 افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ ہسپتال پہنچنے سے قبل 3 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد میں شیرخوار سمیت 17 افراد زخمی جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں مزید 2 افراد نے دم توڑ دیا۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد جمیل ربانی، بس ڈرائیور، حلیمہ خان، روہن راشد، رفینہ بی بی، نجف فاطمہ، حمزہ، ذبیح اکبر، احسن، محمد سلیم اور مہران اشرف کے نام سے ہوئی ہے۔محمد قدیر نے بتایا کہ جہاں سے بس گرتی تھی اس سڑک کا کچھ حصے پہلے سے متاثر تھا اور مبینہ طور پر کٹاو کی وجہ سے بس دریائے جہلم کے کنارے گری۔تاہم ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ سڑک کافی چوڑی تھی اور ڈرائیورانتہائی بائیں جانب گاڑی چلانے سے گریز کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی کھسکی اور اس کے قابو سے باہر ہوگئی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کے لیے جلد صحتیابی کی دعا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں