بلاول کی عدم موجودگی میں شہباز شریف کی پی ڈی ایم کو بحال کرنے کی کوشش

اسلام آباد: بظاہر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو بحال کرنے کی کوشش میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے تمام مرکزی اپوزیشن جماعتوں کے لیے عشایئے کا اہتمام کیا۔تاہم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو دوبارہ اس کثیرالجماعتی اتحاد میں واپس لانے کی کوششیں غیر مؤثر رہیں کیونکہ چیئرمین پی پی پی نے عشایئے میں شرکت نہیں کی، البتہ ان کی جماعت کے سینیئر رہنما شریک ہوئے۔

معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی ایم نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان کا اجلاس منگل کے روز طلب کیا ہے جس میں پیپلز پارٹی کو دعوت نہیں دی گئی۔بلاول بھٹو زرداری جو گزشتہ رات ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے واپس آئے اور اس تقریب میں حصہ نہیں لیا انہوں نے اپنی جماعت کا 3 رکنی وفد بھجوایا تھا جس میں 2 سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف اور شیری رحمٰن شامل تھیں۔اسی طرح رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد میں تھیں لیکن انہوں نے عشایئے میں شرکت سے گریز کیا اور پی ڈی ایم کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن بھی اس میں شریک نہیں ہوئے۔دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جس نے کئی ماہ قبل پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی ایک نجی ہوٹل میں ہونے والے اس عشایئے میں شریک تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عشایئے کے بعد میڈیا سے کوئی بات نہیں ہوئی جو خاصی غیر معمولی بات ہے، کیونکہ اس طرح کے اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد عموماً اپوزیشن رہنما اس کی تفصیلات بتانے کے لیے میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں۔باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ شہباز شریف کی تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم کوئی رسمی اجلاس نہیں ہوا کیونکہ عشایئے کے بعد لوگ وہاں سے چلے گئے تھے۔تاہم شہباز شریف نے بجٹ 22-2021 کے تناظر میں تمام اپوزیشن رہنماؤں کو دوبارہ متحد ہونے کا کہا، ان کا کہنا تھا کہ یہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ تمام عوام مخالف حکمت عملیوں اور بجٹ کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی مزاحمت کرے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پی پی پی اور اے این پی نے عشایئے کے میزبان کی جانب سے اٹھائے گئے اس معاملے پر جواب دینے کے لیے کچھ وقت مانگا ہے۔دوسرے ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسدالرحمٰن کے سوا کسی نے پی ڈی ایم کی بحالی کی بات نہیں کی، لیکن تقریب میں موجود کسی فرد نے ان کے نقطہ نظر کی تائید نہیں کی۔تمام بات چیت اس حوالے سے ہوئی کہ بجٹ اور اپوزیشن کس طرح قوم کو ریلیف پہنچا سکتی ہے۔اس سلسلے میں جب مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف عشائیہ تھا باقاعدہ اجلاس نہیں، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ شہباز شریف نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ حکومت کے تمام اقدامات کی مخالفت کی جائے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں