قومی اسمبلی نے ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کو 120 روز کی توسیع دے دی

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس، چہارم 2021 میں توسیع کردی جو 11 جون کو ختم ہونے والا تھا۔ ایوان نے آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کے ذیلی پیراگراف کے تحت آرڈیننس کو مزید 120 دن کے لیے توسیع دینے کی قرارداد منظور کی۔آرڈیننس کے اغراض و مقاصد کے مطابق اس کا مقصد معاشی استحکام کی جانب ٹھوس کوششیں کرنا، معیشت کی جدت اور دستاویزات کے تصور میں ٹیکس پالیسیز کے نفاذ کو تیز کرنا، مقامی ڈیٹ مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، عدم مساوات کا خاتمہ اور ٹیکس دہندگان کی حقیقی مشکلات کو دور کرنا ہے۔ساتھ ہی اس کا مقصد بیرونِ ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کو ملک میں ڈیجیٹلی بینک چینلز سے منسلک کرنا ہے تاکہ وہ مالی آلات، حکومتی سیکیورٹیز، اسٹاک ایکسچینج اور ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرسکیں۔مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے اس توسیع کی مخالفت کی اور کہا کہ آئین کی دفعہ 73 کہتی ہے کہ مِنی بل کا آغاز قومی اسمبلی سے ہوگا، ان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو اس معاملے پر قانونی رائے لینی ہوگی۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے انکم ٹیکس ایکٹ 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، کسٹم ایکٹ 1969 اور فیڈرل ایکسائیز ٹیکس 2009 میں اہم تبدیلیاں کررہی ہے اور بہت سی سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق حکومت ان آرڈیننسز کے تحت 7 کھرب روپے کے ٹیکس لگا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کو اس وقت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار ہے جب ملک میں کوئی ہنگامی حالت ہو یا پارلیمان کا اجلاس نہ ہورہا ہو۔ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس فروری میں ایوان کے 2 اجلاسوں کے درمیان نافذ کیا گیا جبکہ ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ موجودہ حکومت نے افغانستان کے لیے امریکا کو فضائی حدود کی رسائی دی ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ امریکا کے ساتھ جن شرائط پر سمجھوتہ ہوا انہیں ایوان میں پیش کیا جائے۔پارلیمانی سیکریٹری برائے غیر ملکی امور عندلیب عباس نے ایوان کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر سول ملٹری قیادت ایک پیچ پر ہے۔یہ بات انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہی کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ ‘

اپنا تبصرہ بھیجیں