اسرائیلی فورسز کا غزہ میں قطری ہلال احمر کے دفتر پر حملہ

اسرائیل کی فورسز نے غزہ میں پر فضائی کارروائی میں قطری ہلال احمر (کیو آر سی ایس) کے دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 فسلطینی جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کیو آر سی ایس نے بتایا کہ اسرائیل کی قابض فورسز نے دفاتر کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ قطری ہلال احمر غزہ میں ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتی ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق امدادی کام کے لیے ٹیمیں بھیجنے کا اعادہ کرتے ہیں۔کیو آر سی ایس سیکریٹری جنرل علی بن حسن الحمادی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے جس پر اسرائیل نے دستخط کیے ہیں۔قطر کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کی۔وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی قابض حکومت ہلال احمر کی عمارت پر بمباری کی جبکہ فورسز فلاحی اور میڈیا کے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو بین الاقوامی قانون، عالمی اقدار اور روایات کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹ کےمطابق قطری ہلال احمر کے دفتر پر حملے میں تنظیم کی ایمبولینسز، طبی مراکز، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (میڈیسنز سانز فرنٹیئرز یا ایم ایس ایف) کے عملے کو بھی نشانہ بنایا۔

ایم ایس ایف کا کہنا تھا کہ گزشتہ شب غزہ میں ایم ایس ایف کی کلینک کو اسرائیل نے بمباری کرکے تباہ کیا جہاں ٹراما اور جھلسے ہوئے افراد کا علاج کیا جاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے سے کلینک کے اندر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہوچکےہیں۔کیوآر سی ایس غزہ میں فلسطینیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کررہی ہے جو اسرائیلی جارحیت سے متاثر ہیں اور یہ سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔غزہ کے حالات کے پیش دو روز قبل قطری تنظیم نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے مزید 10 لاکھ ڈالر فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا تھا جو حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والے خاندانوں میں خرچ کیے جائیں گے۔فنڈ آبادی کی بنیادی ضروریات، ادویات اور ایمبولینس سمیت دیگر طبی ضروریات کے لیے خرچ کیاجائے گا۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں اب 59 بچوں اور خواتین سمیت 200 سے زائد افراد جاں بحق اور 1300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔اسرائیلی فورسز نے دو روز قبل غزہ سٹی میں کثیرالمنزلہ عمارت پر بمباری کی تھی جہاں الجزیرہ، اے پی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے اداروں کے دفاتر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں