ہمارے ہاں انصاف کا نظام طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا جس کی وجہ سے امیر ترین محلوں میں رہنے والے لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں امیر کم اور غریب زیادہ ہوں وہ معاشرہ کبھی اوپر نہیں جاتا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘ایلیٹ کلاس نے ملک کو ہر طرح سے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے، ایک نظام بن گیا ہے جس میں عام آدمی کے لیے کوئی نہیں سوچتا کہ وہ کیسے زندگی گزارے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے دیکھ لیا ہے ہمارا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا’۔انہوں نے کہا کہ ‘وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جو عام آدمی کو اوپر لانے کی کوشش نہیں کرتا، چھوٹا سا معاشرہ جس میں امیروں کا چھوٹا سا جزیرہ ہو اور نیچے غریبوں کا سمندر وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا’۔

’30 سال سے حکومت کرنے والے احتساب کے لیے تیار نہیں’

ان کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست قائم ہوتے ہی دودھ کی نہریں نہیں بہی تھیں، انہوں نے سب سے پہلے 2 کام کیے تھے جن میں سے ایک قانون کی بالادستی قائم کرنا شامل ہے کہ صرف غریب جیلوں میں نہیں جائیں گے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں شور مچا ہوا ہے، 30 سال سے حکومت کرنے والے شور مچا رہے ہیں، وہ احتساب دینے کو تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون کے اوپر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ایک یونین بنی ہوئی ہے پی ڈی ایم کے نام سے کہ ہمیں این آر او دے دو باقی عام لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دو’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے علاوے مدینے کی ریاست کو فلاحی ریاست بنایا گیا تھا، وہ کامیابی کا ماڈل ہے اور ہماری بھی یہی جنگ ہے کہ طاقتور کو قانون کے نیچے لے کر آنا ہے اور کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے لاہور کو کچی آبادی بنتے دیکھا ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانا بہت مشکل ہوگیا ہے، وہ کیا کرے، اس لیے یہاں کچی آبادیاں بنیں’۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد یہاں قبضہ گروپ بھی سرگرم تھا جو کمزور لوگوں یا سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے میں ملوث تھا’۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘بینک اس وقت تک قرضہ نہیں دیتا جب تک اسے یقین نہ ہو کہ اس کے پیسے واپس آئیں گے، پاکستان میں ہاؤسنگ میں 0.2 فیصد لوگوں کو قرضہ دیا جاتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ فورکلوژر قانون کا کیس عدالتوں سے جیتنے کے بعد اب بینکوں کو تربیت دے رہے ہیں کہ غریب اور مزدوروں کو قرضہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سبسڈی دے کر گھر فراہم کر رہی ہے، غریب شخص جو کرائے کے گھر میں رہ رہا ہے وہ اب اتنا ہی کرایہ دے کر اپنے گھر کا مالک بن سکے گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے عام آدمی اپنے گھر کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا، اپنا گھر ایک بہت بڑی سیکیورٹی ہے، لوگوں کو ڈر ہوتا ہے کہ کرایہ نہ دیا تو گھر سے نکال دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادی کو بھی ہم ملائیشیا اور ترکی کے ماڈل پر تبدیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہاؤسنگ سے 30 صنعتیں جڑی ہیں، ہم اس کو اوپر لائیں گے جس سے ملک کی شرح نمو بڑھے گی اور بے روزگار کا خاتمہ ہوگا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘سیمنٹ کی فروخت میں پاکستان کی تاریخ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور چند مہینے میں اس کے اثرات پوری معیشت میں سامنے آئیں گے’۔

‘عوام سے ماسک پہننے کی اپیل’

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘عوام کو تاکید کرتا ہوں کہ ماسک پہنیں، بھارت میں جو حالات ہیں اگر حکومت اپنی صلاحیت دوگنی نہ کرتی تو ہمارے بھی وہی حالات ہونے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں، ہمیں کورونا کیسز کم کرنے ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ماسک پہنیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں