کووڈ-19: سندھ میں 9 مئی سے عید کی تعطیلات تک سختیاں بڑھانے کا فیصلہ

حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث اتوار سے عید کی چھٹیوں تک سختیاں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، ناصر شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ کو آگا کیا گیا کہ محکمہ صحت سندھ نے نجی ہسپتالوں سے بات کی ہے، آج سے نجی ہسپتالوں کو کورونا ویکسین دی جائے گی جو وہ مفت میں لگائیں گے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں کل سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، شہر قائد میں کیسز 5 فیصد سے 14.23 فیصد ہوگئے ہیں جبکہ حیدر آباد میں شرح 18.1 فیصد سے کم ہوکر 11.92 فیصد ہوگئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی شرقی اور جنوبی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔انہوں نے کورونا کیسز ڈیل کرنے والے تمام ہسپتالوں کے آلات اور عملے کی آڈٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن ہسپتالوں میں سہولیات کم ہیں ان کو فوری پورا کیا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کل سے اتوار تک ٹیک اوے مغرب تک ہوگی، مغرب کے بعد ریسٹورنٹس صرف ہوم ڈلیوری کر سکیں گے جبکہ کریانہ کی دکانیں شام 6 بجے تک کھلی ہوں گی۔ترجمان وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ فارمیسیز کو وقت کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ ویکسی نیشن سینٹرز 24 گھنٹے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عید کے دنوں میں ہاکس بے اور ساحل سمندر بند رہیں گے جبکہ اتوار سے عید کی چھٹیوں تک مزید سختیاں ہوں گی۔واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے کووڈ-19 ایس او پیز سے متعلق جاری 4 مئی کے فیصلوں کے تناظر میں گزشتہ روز صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کی حکومت نے 8 سے 16 مئی (عید الفطر کی تعطیلات کے دوران) مکمل لاک ڈاؤن یا مختلف قسم کی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کردیا تھا۔4 مئی کو این سی او سی کے ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ 8 سے 16 مئی کے دوران عید کی چھٹیوں میں وفاق، صوبوں اور ضلعی سطح پر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔این سی او سی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ 8 مئی سے 16 مئی2021 تک ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کا کورونا وائرس سے نمٹنے کا طریقہ کار عقل سے ماورا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صرف نئے نئے میٹر ایجاد کرنے سے اور اخباری بیانات دینے سے آپ کووڈ کو نہیں سنبھال سکتے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی باتیں سن کر روز حیرت ہوتی ہے، روز ایک نیا وزیر آجاتا ہے، ایک چاند دیکھتے تھے پھر اگلے وزیر نے کہا کہ میرا کام ہی نہی چاند دیکھنا، اب انہوں نے میٹر بھی نکال لیا ہے جو کیچ کرلیتا ہے کہ ایس او پیز پر کتنا عملدرآمد ہورہا ہے وہ ایک بٹن دبا تے ہیں اور اعداد و شمار آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ این سی سی کے گزشتہ اجلاس میں، میں نے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دی تھی جو نہیں مانی گئی اور اس کی وجہ سے کووِڈ کا انفیکشن ایک جگہ سے دوسری جگہ گیا اسے چیک کرنے کا میٹر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے پروازیں بند کردیں یہاں سے جانے والے مسافروں پر یا تو پابندی ہے یا انہیں 14 روز قرنطینہ کرنا پڑتا ہے اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ہاں صرف سیاسی بیانات دینے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں