بجٹ میں جی ڈی پی، افراط زر، ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز ہوگی، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے پروٹوکول کے بغیر جی -11 مرکز اور وفاقی دارالحکومت کے کچھ دوسرے علاقوں کو دورہ کیا جہاں انہوں نے آئندہ سالانہ بجٹ اور قومی معیشت سے متعلق اجلاس کی صدارت سے قبل ٹھیلے مالکان سے بھی بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سال 22-2021 کے لیے ترقیاتی بجٹ تیار کرے جس میں جی ڈی پی کی نمو کو بہتر بنانے اور افراط زر سے نمٹنے پر ساری مرکزی توجہ مرکوز ہو۔بعد ازاں اجلاس کی صدارت کے دوران عمران خان نے کہا کہ آئندہ سالانہ بجٹ مرتب کرتے وقت ترقیاتی منصوبوں اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے علاوہ نئے منصوبوں کو عوامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر، وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، شفقت محمود اور فواد چوہدری، خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان، وزیر اعلیٰ محمود خان، صوبائی وزرا ہاشم جوان بخت، تیمور سلیم جھگڑا اور متعلقہ سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔اس ضمن میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ شوکت ترین دونوں کی خواہش تھی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اپنے پانچ سال کے آخری 2 برس کے دوران ترقی پر مبنی معیشت پر توجہ دے۔انہوں نے یاد دلایا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 90 ارب روپے کمی کردی گئی ہے حالانکہ رواں مالی سال کے لیے یہ ابتدائی طور پر 200 ارب روپے تھے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حالیہ پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس میں پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اپنے انتخابی حلقوں کے لیے فنڈز کا مطالبہ کیا تھا اور وزیر اعظم سے کہا تھا کہ ان کے انتخابی حلقوں کے عوام نے مطالبہ کیا کہ ان کے بنیادی معاملات حل کیے جائیں۔حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے تمام صوبوں کے ترقیاتی فنڈز بڑھانے کا فیصلہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے اور ادارے اپنے ترقیاتی فنڈز کو مکمل طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے آدھے سے زیادہ فنڈز آئندہ بجٹ کے اعلان سے قبل ختم ہوجائیں گے۔وزیر اعظم نے پارٹی کے سینئر قیادت سے اگلے بجٹ کے حوالے سے تجاویز طلب کیں۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے قومی معیشت، افراط زر پر قابو پانے کی حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکا کو بتایا گیا کہ اگلا بجٹ جی ڈی پی کی نمو میں بہتری کی طرف پوری توجہ کے ساتھ ترقی پر مبنی ہوگا۔ترقیاتی کاموں میں تیزی لاتے ہوئے معاشی سرگرمیوں، جی ڈی پی میں اضافے اور آمدنی کی وصولی کے علاوہ ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔وزیر اعظم کو کووڈ 19 کی صورتحال کے درمیان محصولات وصول کرنے اور افراط زر پر قابو پانے کے لیے وضع کردہ جامع حکمت عملی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے پروٹوکول کے بغیر اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔چہرے پر ماسک پہنے ہوئے وزیر اعظم نے کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر ٹھیلے پر بیٹھے ایک لڑکے کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ‘اپنے چھوٹے بھائی کے لیے بھی ماسک لے لو’۔قربان علی نامی ٹھیلے مالک نے وزیر اعظم اور ان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے معاش فراہم کرنے کے لیے ایک کاروباری جگہ فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے ہمارے بارے میں سوچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں