40 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن کا عمل شروع ہوگیا، ڈاکٹر فیصل سلطان

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں ویکسین کی فراہمی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے جس کی رجسٹریشن کا آغاز گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں گاوی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا تھا جس وقت کوئی ویکسین نہیں بنی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ای سی سی نے 15 کروڑ ڈالر 30 نومبر کو منظور کیے تھے جسے کابینہ نے یکم دسمبر کو منظور کیا تھا اور اس وقت بھی دنیا میں کوئی ویکسین منظور نہیں کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال جون کے آخر تک ایک کروڑ 90 لاکھ خوراک حاصل ہوجائیں گی جن میں سے 90 فیصد خریداری کے ذریعے حاصل ہوں گی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘ہم صرف عطیات پر انحصار نہیں کر رہے ہیں’۔انہوں نے بتایا کہ ‘حکومت اب تک 3 کروڑ ویکسین کی خوراک کے معاہدوں پر دستخط کرچکی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں موجودہ آبادی میں ویکسینیشن لگوانے کے لیے اہل 10 کروڑ کے قریب ہیں، باقی 18 سال سے کم ہیں اور اکثر ویکسین 18 سال سے زائد عمر کے لیے رجسٹرڈ ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سال کے آخر تک 7 کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانا چاہتے ہیں اور جون تک کے لیے ہونے والے معاہدوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کو اس ہدف پر تسلی ہے’۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ویکسین کی طلب زیادہ اور پیداوار کم ہے جس کی وجہ سے چند امیر ترین ممالک کو بھی اپنی ویکسین مہم کو سست کرنا پڑا ہے تاہم اس صورتحال میں بھی حکومت عوام کو ویکسینیشن فراہم کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ‘ویکسین بنانے والے کئی ممالک نے ویکسین کی برآمدات پر پابندی عائد کررکھی ہے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں