ایران: سپریم لیڈر نے وزیر خارجہ کے بیان کو ایک ‘بڑی غلطی’ قرار دے دیا

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے وزیر خارجہ کے سفارت کاری پر فوجی اثر و رسوخ سے متعلق متنازع بیان کو ایک ‘بڑی غلطی’ قرار دیا ہے۔ صدر حسن روحانی کی کابینہ کے اہم رکن محمد جواد ظریف کے متنازع ریمارکس 3 گھنٹے پر مشتمل ‘خفیہ’ گفتگو میں سامنے آئی جو ایک ہفتے قبل ایران سے باہر میڈیا میں شائع ہوئی۔دوسری طرف وزیر خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں ریکارڈ شدہ تبصروں سے معذرت کرلی جو 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔جواد ظریف نے لیک آڈیو میں جنرل قاسم سلیمانی کے روس کے ساتھ الگ تعلقات اور وزیر خارجہ کے اعتراض کے باوجود شام میں کارروائیوں کے لیے ایران ایئر کے قومی طیارے کا استعمال روکنے سے انکار کردیا تھا۔امریکا نے ایران ایئر پر پابندی بھی عائد کردی تھی۔جواد ظریف نے انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا کنبہ انہیں معاف کردے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایران کے عظیم لوگ اور جنرل قاسم سلیمانی سے محبت کرنے والے اور خاص طور پر ان کے اہلخانہ مجھے معاف کردیں گے۔ریکارڈنگ کے منظر عام پر آنے کے بعد قدامت پسندوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا جبکہ اعتدال پسند سوچ کے حامل افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ اس لیک سے کون فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ٹیلیویژن بیان میں کہا کہ ملک کی پالیسیاں مختلف معاشی، فوجی، معاشرتی، سائنسی اور ثقافتی منصوبوں سے بنی ہیں، جن میں خارجہ تعلقات اور سفارتکاری شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ ایک حصہ دوسرے سے الگ ہیں یا اس سے متصادم ہے یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کا ارتکاب اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کو نہیں کرنا چاہیے۔آیت اللہ خامنہ ای نے لیک آڈیو یا جواد ظریف کے نام کا حوالہ نہیں دیا لیکن ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والی تقریر کے آخری چند منٹ میں وزیر خارجہ کو واضح طور پر نشانہ بنایا۔سپریم لیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ ‘دنیا میں کہیں بھی وزارت خارجہ کی وضع کردہ خارجہ پالیسی نہیں ہے’۔انہوں نے کہا کہ سفارتی عملہ اعلی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں پر صرف ‘عملدرآمد’ کو یقینی بناتا ہے اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ہی فیصلے کرتی ہے۔جواد ظریف کے لیک بیان میں جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ ساتھ ان کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے بھی بات کی گئی تھی۔ایرانی وزیر خارجہ کو سات گھٹنے طویل ٹیپ میں مختلف مواقع پر یہ کہتے ہوئے نا جا سکتا ہے کہ یہ نشر کرنے کے لیے نہیں ہے۔انہوں نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ ‘اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ بیان عوام میں جائے گا میں اس کو ایسے بیان نہیں کرتا’۔جواب ظریف کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے انتخاب میں صدارتی امیدوار ہیں جبکہ چند عناصر کا خیال ہے کہ ووٹنگ میں وہ رجعت پسندوں کے خلاف مضبوط امیدوات ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں