عمران خان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں، اسد عمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔نجی چینل ‘آج نیوز’ کے پروگرام ‘آج رانا مبشر کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ‘عمران خان اقتدار سے چمٹنے والے انسان ہی نہیں ہیں نہ اقتدار کے لیے آئے ہیں، اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا تو وہ جب بھی مناسب سمجھیں گے اسمبلیاں توڑ دیں گے اور عوام کے پاس چلے جائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان بڑے فیصلے کرنے والے انسان ہیں اس لیے ان کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں، وہ اگلے چھ ماہ، ایک سال یا دو سال میں کبھی بھی اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کو مختصر کر سکتے ہیں، اس لیے جو ان سے سودے بازی کے بارے میں سوچ رہا ہے وہ یہ ذہن میں رکھے’۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہماری مخلوط حکومت کے دوران 10، 12 اراکین کا گروپ بن گیا تو خبریں چل رہی تھیں اب تو حکومت گئی، عمران خان نے میری موجودگی میں ان اراکین سے ملاقات میں کہا کہ میں نے آپ کی ساری بات سن لی، لیکن ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے بلیک میل کرکے آپ مجھ سے کوئی کام کرا سکتے ہیں تو میں کل نہیں آج حکومت توڑ دوں گا۔

‘پی ٹی آئی کی اپوزیشن صرف مہنگائی ہے’

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘اس وقت پی ٹی آئی کی اپوزیشن صرف مہنگائی ہے، معیشت میں مجموعی طور پر بہتری آرہی ہے، برآمدات بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، بڑی صنعتوں میں دوہرے ہندسے میں شرح نمو ہے، ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے، اب اصل چیلنج مہنگائی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری حکومت کے آغاز مین مہنگائی کے محرکات کچھ اور تھے، اب جو تشویش ہے وہ عالمی سطح پر خوراک میں مہنگائی ہے، عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، اب حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی پر قابو پانا ہے’۔

‘ویکسین کیلئے کوئی پاکستانی دوسرے سے زیادہ اہم نہیں ہے’

ملک میں کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ‘پاکستان میں ایک طبقہ اب بھی وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہا، یہ ایک حد تک عالمی رجحان بھی ہے، کورونا کے کچھ عارضی اور کچھ مستقل اثرات ہوتے ہیں اس لیے اچھی حکمت عملی یہ ہے کہ انسان حفاظت کرے جو زیادہ مشکل نہیں ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ وائرس کب ختم ہوگا، لوگ پرانی متعدی بیماریوں کی بنیاد پر اس کے خاتمے کے اندازے لگا رہے ہیں لیکن یہ بات بالکل یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کم از کم اگلے چند ماہ ہم نے وائرس کے ساتھ گزارنے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر کو جاری رکھنا پڑے گا’۔ویکسین سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘کوئی پاکستانی دوسرے سے زیادہ اہم نہیں، صدر اور وزیر اعظم نے بھی اپنی باری پر ویکسین لگوائی، اس بیماری نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ سب پاکستانی ایک ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں