اٹارنی جنرل کا حقوق کے نفاذ کیلئے عدلیہ کے اختیارات ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کو ملے اختیارات کے استعمال کے لیے ایک مقصدی میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اے جی پی نے تسلیم کیا کہ ‘یہ اختیار عدالت عظمیٰ نے بہت احتیاط کے ساتھ اور انتہائی ضرورت کے تحت استعمال کیا ہے’ تاہم تجویز پیش کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ عدالت عظمیٰ چند رہنما اصول اور طریقہ کار پر غور و فکر کرے۔اے جی پی نے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کے رہنما اصول سے اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی جس کا نتیجہ ہمارے دائرہ اختیار کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہوگا۔خالد جاوید خان عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منظور احمد ملک کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس منظور ملک کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے بھی اس ریفرنس سے خطاب کیا۔ماضی میں بھی عوامی مفادات کی قانونی چارہ جوئی سے نمٹنے کے لیے عدلیہ کے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا جاچکا ہے جہاں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی ایک بڑی تعداد نے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہاں تک کہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے 2017 میں ایک قرار داد منظور کیا تھا جس میں ایک ایسے قانون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا جس کے تحت آرٹیکل 184 (3) کے تحت اعلی عدالتوں کی جانب سے منظور شدہ فیصلوں کو چیلینج کرنے کی گنجائش ہو۔پی بی سی کی قانونی اصلاحات کمیٹی نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں وزارت قانون کو قانون میں ترمیم پر غور کرنے کا کہا گیا تھا۔پی بی سی کی قرارداد میں آرٹیکل 184 (3) کے تحت عدلیہ کی جانب سے طے شدہ مقدمات میں کم از کم ایک حق اپیل کی قانونی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کو یقینی بنایاجاسکے۔اے جی پی نے فل کورٹ ریفرنس میں اپنے خطاب میں کہا کہ عدلیہ کو درپیش سب سے اہم مسئلہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی طویل فہرست ہے کیونکہ اس سے قانونی چارہ جوئی کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔اے جی پی نے کہا کہ ‘اس کا فوری طور پر مرکوز اور پائیدار جواب دینے کی ضرورت ہے’۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں تنوع کا فقدان ہے، ‘زیادہ سے زیادہ خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے ممبران کو اعلی عدلیہ میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی عدم موجودگی سے ادارے کے کام اور وقار پر اثر پڑتا ہے’۔جسٹس منظور ملک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اے جی پی نے یاد کیا کہ حال ہی میں ایک کیس میں فریقین نے ایک دوسرے پر چلانے کی کوشش کی تو جسٹس منظور ملک اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جسٹس منظور ملک نے تحمل سے کام لیا اور ان کی تحمل مزاجی کمرہ عدالت کے باہر دور دور تک محسوس کی گئی’۔اے جی پی نے کہا کہ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ جہاں ہمیں تحمل مزاجی کی ضرورت ہے ہم وہیں ایک ایسے فرد کو کھو رہے ہیں جس نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم اٹارنی جنرل نے کہا کہ انفرادی اہمیت رہے گی تاہم یہ سفر جاری رہنا چاہیے اور عدلیہ کی آزادی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین عدالتیں اور دیگر ادارے تشکیل دیتا ہے اور ان کو اختیارات دیتا ہے تاہم کسی بھی آئین نے کبھی کسی ادارے کو اخلاقی اختیار نہیں دیا ہے۔اے جی پی نے کہا کہ اخلاقی اختیار آئین سے نہیں، بلکہ لوگوں کا اعتماد جیتنے سے حاصل ہوتا ہے، ادارے خدمت کے لیے ہی ہوتے ہیں۔خالد جاوید نے کہا کہ عدالت عظمٰی کی اصل قوت قوم کا اس کی آزادی پر اعتماد ہے اور ‘اور دیگر توانائی کے وسائل کی طرح، اس کو بھی مستقل تجدید اور دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کی ضرورت ہے’۔چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جسٹس منظور ملک کی انصاف کے حصول، بالخصوص فوجداری مقدمات کے لیے انتھک شراکت نے قانون کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک مثال قائم کردی ہے۔انہوں نے کہا ‘جسٹس منظور ملک کو ہمیشہ عقیدت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا’۔جسٹس منظور ملک نے اپنی تقریر میں کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں مجرموں کے دکھ اور مصائب کو دور کرنے کے لیے سخت تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو اپنی سزا کا ایک بڑا حصہ اکثر اپیلوں کے خاتمے کے منتظر میں گزار دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں