روس کےخلاف امریکی پابندیوں میں پاکستانی افراد، کمپنیاں بھی شامل

روس کے مبینہ سائبر جرائم میں ملوث ہونے پر امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پابندی کی زد میں آنے والے 32 افراد اور کمپنیوں میں سے 10 کا تعلق کراچی اور لاہور سے ہے۔یہ بات امریکا کے سرکاری بیان میں سامنے آئی۔جمعرات کو جو بائیڈن نے روس کے 10 سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا تھا اور 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت اور امریکی وفاقی ایجنسیوں کی بڑی سائبر ہیکنگ کے جواب میں تقریباً تین درجن افراد اور کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔جمعہ کو امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں ان افراد اور کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں پاکستانی افراد بھی شامل تھے۔ان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے شہزاد احمد عرف شہزاد امین بھی شامل ہیں جن پر 2018 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے ذریعے امریکی انتخاب میں غیر ملکی مداخلت پر مخصوصی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔راچی کے سید جوہر حسنین، محمد خضر حیات عرف حیات جعفری، رضا محسن عرف امیری، مجتبیٰ علی رضا عرف لیلانی اور سید علی رضا عرف زیدی پر بھی امریکی انتخاب میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام افراد متعدد آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو بھی جانتے ہیں۔پابندی کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں سے ایک کراچی کی فریش ایئر فارم ہاؤس ہے جس سے متعلق امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ اس کا تعلق رضا محسن اور مجتبیٰ علی رضا سے ہے۔اسی طرح کمپنی لائیک وائز، دکان نمبر 5، جمشید کوارٹرز، کراچی کا تعلق بھی رضا، محسن اور مجتبیٰ علی رضا سے بتایا گیا۔پابندی کی زد میں آنے والی تیسری کمپنی ایم کے سوفٹ ٹیک، 631 سی، چھٹی منزل، مشرق سینٹر، اسٹیڈیم روڈ، کراچی ہے اور اس کا تعلق بھی رضا، محسن اور مجتبیٰ علی رضا سے ہے۔کراچی کی سیکنڈ آئی سولوشن عرف فارورڈرز کمپنی کی صرف ویب سائٹ ہے اور ای میل ایڈریس ہیں۔امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا، روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو ہدف بنا کر پابندیوں کا دوسرا مرحلہ زیادہ مشکل اور پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔روس پر الزام ہے کہ اس نے امریکی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے پانچ ماہ قبل سولر وِنڈز سائبر حملے میں کم از کم 9 وفاقی ایجنسیوں کے نیٹ ورکس کو ہیک کیا۔روس پر 2016 کی طرح 2020 کے صدارتی انتخاب میں مبینہ طور پر اثر اداز ہونے کی کوشش اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کے لیے غلط معلومات پر مبنی مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔روس نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کو جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔گزشتہ ماہ امریکا نے کریملن کے ناقد الیکسی نوالنی کو مبینہ طور پر زہر دینے پر 7 روسی عہدیداروں اور ایک درجن سے زائد سرکاری اداروں پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔منگل کو روسی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں جو بائیڈن نے ‘سختی’ سے امریکی قومی مفادات کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا اور دونوں ممالک کے مل کر کام کرنے کے لیے ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی تجویز دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں