‘دی پاور آف ڈاگ’ 12 نامزدگیوں کے ساتھ آسکر ایوارڈز میں سرفہرست

فلمی دنیا کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے ’آسکر ایوارڈز‘ کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا، جس میں فلم ‘دی پاور آف ڈاگ’ 12 نامزدگیوں کے ساتھ سب سے آگے رہی۔ہولی وڈ کی گزشتہ سال سامنے آئی ویسٹرن ڈراما فلم ‘دی پاور آف ڈاک’ کو بہترین فلم، بہترین ڈائریکٹر اور بہترین اداکار کے ساتھ کئی اور ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔94 ویں آسکر ایوارڈز میں بہترین فلم کے لیے دی پاور آف ڈاک کے علاوہ ڈیون، بلفاسٹ، کوڈا، ڈونٹ لک اپ، ڈرائیو مائی کار، ڈیون، کنگ رچرڈ، لیکرش پیزا، نائٹ میئر ایلی اور ویسٹ سائیڈ اسٹوری کے درمیان مقابلہ ہوگا۔جہاں دی پاور آف ڈاگ نے سب سے زیادہ نامزدگیاں حاصل کیں، وہیں سائنس فکشن فلم ڈیون نے 10 نامزدگیاں حاصل کیں۔دی پاور آف ڈاگ کی ڈائریکٹر جین کیمپن پہلی خاتون بن گئی ہیں جن کو 2 بار آسکر ایوارڈز میں بہترین ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا۔اس سے قبل 1993 کی فلم دی پیانو کے لیے بھی ان کو نامزد کیا گیا تھا مگر اس سال اسٹیون اسپیلبرگ نے ایوارڈ جیت لیا تھا۔اس بار انہیں بلفاسٹ کے ڈائریکٹر کینتھ برانگ، ویسٹ سائیٹ اسٹوری کے اسٹیون اسپیلبرگ، لیکرش پیزا کے پال تھامس، ڈرائیو مائی کار کے ریوشکو ہاماگوچی جیسے حریفوں کا سامنا ہے۔بہترین اداکاروں کی نامزدگیوں میں جیویر بارڈم (بینگ دی ریکارڈوز)، بینیڈکٹ کمبربیچ (دی پاور آف ڈاگ)، اینڈریو گارفیلڈ (ٹک ٹک بوم)، ول اسمتھ (کنگ رچرڈز)اور ڈینزل واشنگٹن (دی ٹریجٖڈی آف میک بیتھ) کے نام سامنے آئے۔بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے جیسیکا چیسٹن، اولیویا کولمن، پینالوب کروز، نکول کڈمین اور کرسٹین اسٹیورٹ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔بہترین معاون اداکارہ کے لیے جیسی بیکلے، آرینا ڈی بوس، جوڈی ڈینچ، کرسٹین ڈنسٹ اور Aunjanue Ellis جبکہ معاون اداکار کے لیے ٹوری کوٹسر، جیسی پلیمونز، جے کے سمنز، کوڈی سمٹ میکپی اور Ciarán Hinds کو نامزد کیا گیا۔خیال رہے کہ 2022 میں بھی آسکر ایوارڈز کی تقریب تاخیر کے ساتھ 27 مارچ کو ہوگی۔یہ پہلا موقع ہے کہ آسکر ایوارڈز کے لیے یکم مارچ سے 31 دسمبر کے دوران ریلیز ہونے والی فلموں کو ہی زیرغور لایا گیا تھا، یعنی 12 کی بجائے 10 مہینوں تک ریلیز ہونے والی فلمیں۔کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس بار بھی اسٹریمنگ سروسز پر ریلیز ہونے والی فلموں کو نامزدگیوں میں غلبہ حاصل رہا۔خاص طور پر بیشتر ایوارڈز کے لیے فیورٹ فلم دی پاور آف ڈاگ نیٹ فلیکس پر ریلیز کی گئی تھی اور بہترین فلم کا ایوارڈ اس کے نام ہوا تو یہ پہلی بار ہوگا کہ سنیما میں ریلیز نہ ہونے پر بھی دنیائے فلم کا اعزاز کسی فلم کو مل جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں