ثقلین مشتاق اور پی سی بی کے مابین اختلافات ختم

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے راستے جدا کرنے کے دہانے پر پہنچنے پر ثقلین مشتاق اپنے عبوری عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مقامی میڈیا پر ثقلین مشتاق اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی راہیں جدا ہونے کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے بعد ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان نے ثقلین مشتاق سے ملاقات کی تھی۔رپورٹس کے مطابق ثقلین مشتاق نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں انٹرنیشنل پلیئر ڈیویلپمنٹ کے سربراہ کی مستقل ذمے داری سے استعفیٰ دینے کے بعد بطور ہیڈ کوچ ان کو پی سی بی کی جانب سے پیش کردہ مالی پیکج سے خوش نہیں تھے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائل راؤنڈ تک لے جانے، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کی فتوحات کے باجود سابق ٹیسٹ کرکٹر کو سابق ہیڈ کوچ مصباح الحق کو دی جانے والی تنخواہ سے بھی کم تنخواہ کی پیش کش کی گئی تھی۔ثقلین مشتاق کی کوچنگ میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کے خلاف 29 سے ورلڈ کپ میں شکست کا داغ دھویا تھا اور ٹی20 کے میگا ایونٹ میں بھارت کو 10 وکٹوں سے تاریخ ساز شکست دی تھی۔45 سالہ ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کا بطور ہیڈ کوچ اپنا اسائنمنٹ ٹی 20 ورلڈکپ تھا، ان کو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے عبوری کوچ مقرر کیا گیا تھا لیکن نیوزی لینڈ کی جانب سے سیریز کے پہلے ایک روزہ میچ سے کچھ دیر قبل اچانک سیکیورٹی کے خدشات کے باعث کھیلنے سے انکار اور انگلینڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو جواز بنا کر دورہ نہ کرنے کے باعث دونوں سیریز کا انعقاد نہیں ہوسکا تھا۔ثقلین مشتاق نے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کے استعفیٰ دینے کے بعد بطورعبوری ہیڈ کوچ عہدہ سنبھالا تھا، دونوں نے رمیز راجا کے چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے دورہ پاکستان کے دوران ثقلین مشتاق ٹیم کے ہیڈ کوچ ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں