میشا شفیع نے دوران جرح علی ظفر کی جانب سے ہراساں کرنے کی تفصیلات بتادیں

گلوکارہ میشا شفیع نے لاہور کی سیشن کورٹ میں علی ظفر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداکار نے انہیں متعدد بار ہراساں کیا۔ میشا شفیع گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس میں 4 جنوری کو جرح کے لیے پیش ہوئیں، اس سے قبل وہ تین جنوری کو بھی پیش ہوئی تھیں۔دوران جرح میشا شفیع نے علی ظفر کے وکلا کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ ’جیمنگ سیشن‘ کے دوران ہراسانی کے واقعے کے وقت وہاں 10 سے 15 افراد موجود تھے۔گلوکارہ نے واضح کیا کہ مذکورہ جگہ پر ہراسانی کے واقعے کو انہوں نے خود بھی نہیں دیکھا، البتہ انہوں نے وہاں ہراسانی کو محسوس کیا۔دوران جرح میشا شفیع نے بتایا کہ علی ظفر اس سے قبل متعدد بار ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کر چکےتھے اور وہ ان کے ہاتھوں ہراساں ہوچکی تھیں۔گلوکارہ نے جرح کے دوران بتایا کہ وہ علی ظفر کے ’چھونے‘ سے بیزار ہوتی تھیں، وہ مذکورہ عمل کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں۔دوران جرح علی ظفر کے وکلا نے گلوکارہ سے اپنے سابق منیجر فہد رحمٰن سے متعلق بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنے سابق منیجر کو بھی ہراساں کیا تھا؟جس پر میشا شفیع نے بتایا کہ انہوں نے منیجر کو ہراساں نہیں کیا، انہوں نے ان سے اپنے پیسے نکلوا لیے تھے، سابق منیجر نے ان پر ہراساں کا الزام لگایا مگر اپنے پیسے نکلوانے کو ہراساں نہیں کہا جا سکتا۔دوران سماعت میشا شفیع نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 2016 میں وہ علی ظفر سے کینیڈا میں ملی تھیں اور مذکورہ ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی، جس میں ان کے ہمراہ شوہر بھی تھی۔میشا شفیع نے بتایا کہ مذکورہ پارٹی میں علی ظفر نے انہیں ’کمر سے پکڑا‘ اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔دوران جرح گلوکارہ نے بتایا کہ انہیں یاد نہیں کہ کتنی بار علی ظفر نے انہیں ہراساں کیا مگر اداکار انہیں متعدد بار ہراساں کر چکے ہیں۔انہوں نے علی ظفر پر ہراسانی کا الزام لگانے سے قبل ان کے ساتھ واٹس ایپ پر خوشگوار موڈ میں بات کرنے کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ وہ ان کی پروفیشنل مجبوری تھی، ساتھ ہی خوشگوار انداز میں بات کرنا ان کی عادت ہے۔میشا شفیع کی جرح دوسرے روز بھی مکمل نہ ہوسکی اور چند گھنٹوں کی سماعت کے بعد عدالت نے سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔میشا شفیع نے مذکورہ کیس میں اپنا بیان دسمبر 2019 میں ریکارڈ کروایا تھا اور اب دو سال بعد ان سے جرح کی جا رہی ہے۔گزشتہ روز انہوں نے جرح کے دوران بتایا تھا کہ ان کی جانب سے علی ظفر پر الزامات لگائے جانے کے بعد اداکار کو کئی ایوارڈز ملے، انہیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا گولڈن ویزا ملا اور حکومت نے انہیں اعزازات سے نوازا۔میشا شفیع سے قبل ان کی والدہ صبا حمید بھی مذکورہ کیس میں جرح مکمل کر چکی ہیں جب کہ ان سے قبل علی ظفر اور ان کے تمام گواہان بھی 2019 میں ہی جرح مکمل کر چکے تھے۔اسی کیس میں میشا شفیع نے اگست 2019 میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں متعدد مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا اور پہلی مرتبہ گلوکار نے انہیں اپنے سسرالیوں میں ہونے والی پارٹی کے دوران نامناسب انداز میں چھوا تھا۔اسی طرح ان کے شوہر محمد محمود نے جنوری 2020 میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا اور اب تینوں افراد سمیت میشا شفیع کے دیگر گواہوں سے بھی علی ظفر کے وکلا جرح کریں گے۔میشا شفیع کے بعد ان کے شوہر اور ان کے دیگر گواہوں کی جرح مکمل ہوگی، جس کے بعد ممکنہ طور پر عدالت مذکورہ کیس کا فیصلہ سنائے گی۔علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس اس وقت دائر کیا تھا جب کہ اپریل 2018 میں گلوکارہ نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، جنہیں انہوں نے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس پر گزشتہ ساڑھے تین سال سے سماعتیں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں