چمپیئنز ٹرافی 2025 پاکستان میں کھیلنے سے پہلے حالات کا جائزہ لیں گے، بھارتی وزیر

بھارت کے وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2025 میں شیڈول چمپیئنزٹرافی میں ٹیم کی شرکت کےحوالے سے حالات کا جائزہ لے کر حکومت فیصلہ کرے گی کیونکہ پاکستان میں اس وقت حالات ‘معمول کےمطابق نہیں’ اور سیکیورٹی بدستور ایک چیلنج ہے۔خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر کھیل کا یہ بیان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کو 8 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ کی میزبانی دینے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔کرک انفو کے مطابق انوراگ ٹھاکر نے رپورٹرز کو بتایا کہ ‘ماضی میں بھی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی ممالک نے پاکستان سے اپنی ٹیمیں واپس بلائی تھیں کیونکہ وہاں صورتحال معمول کے مطابق نہیں تھی’۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں سیکیورٹی بڑا چینلج ہے، ماضی میں ٹیموں پر حملے بھی ہوئے، جو باعث تشویش ہے، تو جب وقت آئے گا تو بھارتی حکومت فیصلہ کرے گی جو اس وقت کےحالات پر ہوگا’۔بھارتی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ کا فیصلہ کرنے سے پہلے کئی حوالوں سے غور کیا جائے گا اور بھارتی حکومت کی جانب سے ماضی میں کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ پاکستان میں 50 اوورز کی چمپئنز ٹرافی آئی سی سی کا بڑا ایونٹ ہوگا جو 1996 کے بعد پہلی مرتبہ کھیلا جائے گا جب بھارت اور سری لنکا کے ساتھ مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔دوسری جانب 2008 میں ایشیا کپ کے بعد بھارت کی ٹیم نے آج تک پاکستان میں کوئی میچ نہیں کھیلا، 2005-2006 میں بھارتی ٹیم پاکستان آئی تھی اور اس دورے میں 5 ون ڈے اور 3 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان پاکستان میں کوئی دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔پاکستان کی ٹیم نے 2013 میں دوطرفہ سیریز کےلیے دورہ کیا تھا، اس کے علاوہ دونوں ممالک کی ٹیمیں بین الاقوامی مقابلوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں۔آئی سی سی کی جانب سے رواں ہفتے چمپیئنز ٹرافی کی میزبانی دینے کا اعلان پاکستان کرکٹ کے لیے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی جانب سے ستمبر میں دورہ منسوخ کرنے کے بعد بڑا حوصلہ افزا بیان تھا۔پاکستان میں 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے میں دو شہری اور 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد دنیا کی بڑی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کیا تھا۔بعد ازاں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے حالیہ فیصلے کے بعد دوبارہ خدشات جنم لینے لگے تھے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند نہ ہوجائیں۔تاہم رواں ماہ آسٹریلیا نے اعلان کیا کہ اگلے سال مارچ میں ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں 3 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور ایک ٹی20 میچ کھیلا جائے اور یہ دورہ 1998 کےبعد آسٹریلوی ٹیم کا پہلا دورہ ہوگا۔انگلینڈ نے بھی اگلے سال ستمبر اور اکتوبر میں شیڈول دورے کی تصدیق کی اور اضافی ٹی20 میچز کھیلنے کا بھی اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں