علی گل پیر کو ’تیرا جسم، میری مرضی‘ گانے پر تنقید کا سامنا

کامیڈین گلوکار علی گل پیر اگرچہ سماجی مسائل پر مزاحیہ انداز میں بات کرکے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم بعض اوقات انہیں سنجیدہ مسائل پر بھی مزاحیہ انداز اپنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس بار بھی انہیں عالمی یوم خواتین کے موقع پر جری کیے گئے گانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔علی گل پیر نے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ’تیرا جسم، میری مرضی‘ کے ٹائٹل سے مزاحیہ گانا جاری کیا مگر انہیں گانے کی بولڈ اور قابل اعتراض شاعری اور گانے کی ویڈیو میں دکھائے گئے تشدد کے مناظر کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔علی گل پیر کے گانے ’تیرا جسم، میری مرضی‘ کی ہدایات حماد خان نے دی ہیں جب کہ اس میں نظر الحسن اور شبانہ کو میاں بیوی کے کردار میں دکھایا گیا ہے۔

لوگوں نے گلوکار کو مشورہ دیا کہ وہ یہی بات اچھے طریقے سے بھی کہہ سکتے تھے—اسکرین شاٹ
لوگوں نے گلوکار کو مشورہ دیا کہ وہ یہی بات اچھے طریقے سے بھی کہہ سکتے تھے

گانے کی ویڈیو میں علی گل پیر سمیت برقع میں ملبوس ریپر گلوکارہ کو بھی دکھایا گیا ہے۔گانے کی شاعری کا آغاز معروف ڈراما ساز خلیل الرحمٰن قمر پر طنز سے شروع ہوتا ہے جب کہ گانے کی شاعری میں اعضا کے نام بھی شامل ہیں۔

بعض لوگوں نے گانے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا—اسکرین شاٹ
بعض لوگوں نے گانے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا

جہاں گانے کی شاعری پر لوگوں نے اعتراض کیا، وہیں اس کی ویڈیو میں بدترین تشدد کو دکھائے جانے کی وجہ سے بھی علی گل پیر پر تنقید کی گئی۔لوگوں نے گلوکار کی انسٹاگرام پوسٹ اور ٹوئٹ پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ہدایت کی کہ اگر وہ اسی سنجیدہ مسئلے پر درست انداز میں بات کرتے تو اچھا تھا، انہوں نے اہم مسئلے پر بات کرنے کے دوران غلط الفاظ کا انتخاب کیا۔

کچھ لوگوں نے گلوکار کو یاد دلایا کہ بہت سارے پاکستانی مرد اچھے بھی ہیں—اسکرین شاٹ
کچھ لوگوں نے گلوکار کو یاد دلایا کہ بہت سارے پاکستانی مرد اچھے بھی ہیں

بعض افراد نے ان کی ٹوئٹ پر کمنٹس کیے کہ آج کل خواتین کو کئی حقوق اور آزادی حاصل ہے اور دن بہ دن ان کے مسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔کچھ افراد نے علی گل پیر کو یاد دلایا کہ پاکستان کا ہر مرد برا نہیں ہوتا، زیادہ تر پاکستانی مرد خواتین کی عزت کرتے ہیں۔کچھ افراد نے تو علی گل پیر کے گانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پاک فوج کے تعلقات عام آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سے مطالبہ کیا کہ وہ گلوکار کے خلاف ایکشن لیں۔

بعض افراد نے پیمرا سے گلوکار کے خلاف ایکشین لینے کا مطالبہ بھی کیا—اسکرین شاٹ
بعض افراد نے پیمرا سے گلوکار کے خلاف ایکشین لینے کا مطالبہ بھی کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں