سوئٹزرلینڈ: ریفرنڈم میں ’نقاب‘ پر پابندی کی حمایت

جینیوا: سوئٹزرلینڈ میں عوامی مقامات پر چہرے کو مکمل ڈھانپنے پر پابندی سے متعلق تجویز کی حمایت کردی۔ ریفرنڈم میں سرکاری نتائج کے مطابق 51.21 فیصد رائے دہندگان اس تجویز کی حمایت کی۔علاوہ ازیں رائے دہندگان میں سوئٹزرلینڈ کے فیڈرل کینٹوں کی اکثریت تھی۔سوئس میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی کی حمایت میں 14 لاکھ 26 ہزار 992 رائے دی جبکہ پابندی کے خلاف 13 لاکھ 59 ہزار 621 رائے سامنے آئی جو فیصد کے اعتبار سے 50.8 ہے۔دیگر یورپی ممالک بشمول مسلم اکثریتی ریاستوں میں برقعہ کے خلاف پابندیوں کے بعد سوئزرلینڈ میں بھی کئی برسوں کی بحث و مباحثے کے بعد برقعہ کے خلاف ووٹنگ سامنے آئی۔اس کے باوجود کہ سوائس گلیوں میں شاذو نادر ہی کوئی مسلمان خاتون برقعے میں نظر آئے۔اگرچہ اس تجویز میں ’ہاں چہرے کو مکمل ڈھانپنے پر پابندی عائد ہو‘ میں برقع یا حجاب کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس پابندی کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بھی عوامی مقامات میں اپنا چہرہ مکمل طور پر نہیں ڈھانپ نہیں سکے گا خواہ دکانوں میں ہو یا کھلے دیہی علاقوں میں۔تاہم عبادت گاہوں، یا صحت اور حفاظت کی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔برقعہ پہننے کے خلاف ووٹنگ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے دکانوں اور ٹرانسپورٹ میں چہرے پر ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے2019 کے فیڈرل آفس سروے میں بتایا گیا کہ سوئس آبادی کا 5.5 فیصد طبقہ مسلمان ہے۔خیال رہے کہ یورپی ملک سوئٹزرلینڈ میں نقاب پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ریفرنڈم کو تنقید کا سامنا رہا تھا اور اسے اسلامو فوبیا قرار دیا جارہا تھا۔سوئٹرزلینڈ کے سب سے بڑے شہر زیورخ کے باہر ایک گاؤں میں نصب بِل بورڈ پر ‘انتہا پسندی کو روکیں’ لکھا ہوا ہے۔سوئٹزرلینڈ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) کی مہم کا حصہ ہے جو چاہتے ہیں کہ ملک میں عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ایس وی پی سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ اور ریفرنڈم کمیٹی کے چیئرمین والٹر ووبمین نے کہا کہ ‘سوئٹزرلینڈ میں، ہماری روایت ہے کہ آپ اپنا چہرہ دکھائیں، یہ بنیادی آزادی کی علامت ہے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں