سال 2020: ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 2300 کیسز رپورٹ

پاکستان بھر میں کورونا کی وبا کے بعد جہاں دیگر سماجی مسائل میں اضافہ دیکھا گیا، وہاں خواتین اور بچیوں پر گھریلو و جنسی تشدد سمیت ریپ و اغوا کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔سماجی تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر جاری کی گئی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین پر تشدد اور ان کے ریپ کے تقریبا ڈھائی ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے صرف 25 منتخب اضلاع میں جنوری سے دسمبر 2020 تک 2 ہزار 297 کیسز رپورٹ کیے گئے۔مذکورہ اعداد و شمار صرف ملک کے 25 اضلاع کے ہیں اور یہ واقعات نہ صرف ملک کے اخبارات میں شائع ہوئے بلکہ ان واقعات کی تصدیق متعلقہ تھانوں نے بھی کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں خواتین پر تشدد، ان کے استحصال اور اغوا کے بعد ریپ کے سب سے زیادہ واقعات ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہوئے۔رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے مجموعی طور پر 57 فیصد کیسز کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جب کہ 27 فیصد کا تعلق صوبہ سندھ، 8 فیصد کا خیبرپختونخوا، 8 فیصد گلگت بلتستان اور 2 فیصد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں خواتین کے قتل کے بعد سب سے زیادہ واقعات ریپ، خودکشی، اغوا، کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد جیسے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے۔رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اگرچہ خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے واقعات سب سے زیادہ پنجاب میں رپورٹ ہوئے تاہم حیران کن طور پر خواتین کے قتل کے واقعات سب سے زیادہ بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔اسی طرح گلگت بلتستان میں جرائم، تشدد و استحصال سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے خواتین کی جانب سے خودکشی کیے جانے کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔خیبرپختونخوا میں بھی قتل، ریپ اور خواتین کی خودکشی کے واقعات میں جنوری سے دسمبر 2020 تک اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس، مقامی افراد اور استحصال کی شکار ہونے والی خواتین سے کیے گئے انٹرویوز سے معلوم ہوا کہ تشدد کا شکار بننے والی خواتین میں ڈھائی سال کی کم سن بچیوں سے لے کر درمیانی عمر کی شادی شدہ خواتین شامل ہیں۔اس میں واضح کیا گیا کہ رپورٹ ہونے والے زیادہ تر کیسز غریب طبقے کے تھے اور تشدد کا شکار بننے والی زیادہ تر خواتین بھی غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ساتھ ہی بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں سمیت دفاتر میں بھی خواتین پر تشدد و جرائم رپورٹ ہوئے۔سالانہ رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ ’ریپ‘ کا شکار ہونے والی خواتین پولیس، قریبی افراد اور سماج کے دباؤ کی وجہ سے معاملات کو عدالتوں کے باہر ہی حل کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔رپورٹ میں ریپ کا شکار ہونے والی دو کم عمر بچیوں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جو ’ریپ‘ کے بعد 12 سے 13 سال کی عمر میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں