ٹیکسٹائل کی برآمدات رواں مالی سال کے 7 ماہ میں 8 فیصد تک بڑھ گئیں

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں سالانہ بنیادوں پر ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات 8 فیصد اضافے سے 8 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگئی۔ جولائی تا جنوری کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات میں اضافہ ویلیو ایڈڈ سیکٹر سے ہوا ہے۔جنوری میں اس شعبے سے برآمدات 10.79 فیصد نمو کے ساتھ ایک ارب 32 کروڑ ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 19 ارب ڈالر تھی۔ویلیو ایڈڈ سیکٹر میں بہتری نے سالانہ بنیادوں پر مجموعی برآمدات میں 5.62 فیصد یا 14 ارب 25 کروڑ ڈالر تک اضافہ دیکھا گیا۔وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے ڈان کو بتایا کہ یہ ترقی ان پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے جو حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں اٹھائے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے فیصل آباد میں صنعتیں بند ہو رہی تھیں۔انہوں نے صنعتی خام مال پر ڈیوٹی اور ٹیکس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان کو ماضی کے باقی ریفنڈز کی واپسی کی ادائیگی جیسے اقدامات کو یاد کیا اور کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود کم ہونے سے صنعتی نمو میں تیزی آئی ہے خاص کر برآمدی صنعتوں میں۔عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ برآمدات کے شعبے کو بلا تعطل بجلی اور گیس کی فراہمی ان کی حکومت کی پالیسی ہے۔ٹیکسٹائل پالیسی میں تاخیر کے معاملے پر مشیر نے کہا کہ حکومت مختلف برآمدات پر غور کررہی ہے کہ چھوٹے برآمد کنندگان کی کس طرح مدد کی جائے اور اس میں تاخیر صرف اسی وجہ سے ہوئی ہے۔حکومت نے سیکٹرز کے لیے دس کھرب روپے سے زیادہ کی مالی امداد والی پانچ سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان ملبوسات فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے ڈان کو بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں نمو بنیادی طور پر کراچی سے برآمد کنندگان کو موصول آرڈر میں اضافے کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں صنعتوں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی برآمدات کو فروغ دینے کے عوامل میں سے ایک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں