وزیر خارجہ کی قاہرہ میں مصری ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے مصری ہم منصب سامح شکری نے تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان اور مصر کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جہاں شاہ محمود قریشی منگل کو دو روزہ دورے پر پہنچے تھے۔شاہ محمود قریشی نے سامح شکری کو بتایا کہ پاکستان مصر کو عرب دنیا کا ایک اہم ملک سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ‘تاریخی مذہبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات’ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی افریقی ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کو تقویت بخش بنانے کی پالیسی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔واضح رہے کہ منگل کے روز قاہرہ کے دو روزہ دورے پر روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ مصر ‘افریقہ کے دروازے’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ملاقات کے دوران سامح شکری نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا جبکہ شاہ محمود قریشی نے انہیں پاکستان کے خلاف بھارت کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جو ‘خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ’ ہیں۔شاہ محمود قریشی نے مصر میں ان کے پرتپاک استقبال پر سامح شکری کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت میں بھی دی جسے انہوں قبول کیا گیا۔بعدازاں ایک ٹوئٹ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سامح شکری سے ملنا خوشی کی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘(میں) پاکستان میں وزیر خارجہ سامح شکری کی میزبانی کا منتظر ہوں’۔شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘پاکستان اور مصر کے تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون پر ہیں’۔

وزیر خارجہ سامح شکری اور میں نے اپنے تعلقات کو بڑھانے، زیادہ سے زیادہ لوگوں سے لوگوں کے رابطے، تجارت اور مستقل مشغولیت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ شاہ محممود قریشی نے مصری صدر عبد الفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کی توجہ جغرافیائی سیاست سے جیو اقتصادیات کی طرف بڑھنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ نے اپنے سفر کے دوران مصری کاروباری برادری کے ممبران سے بھی ملاقات کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں