اشیائے خورونوش کے درآمدی بل میں 52فیصد اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس(پی بی ایس) کی جانب سے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں 21-2020 کے 7ماہ میں اشیائے خور و نوش کا درآمدی بل 51.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4.64 ارب ڈالر رہا جس نے تجارتی خسارے کو توقع سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی درآمدی بل میں اشیائے خوردونوش کا حصہ پچھلے سال 11.16فیصد سے 15.84فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے ملک کو فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں چند مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے جو ملک میں درآمدی افراط زر میں کمی کا سبب بنے گی۔تاہم تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ نومبر 2020 کے بعد سے ملک کے مجموعی درآمدی بل میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے کے سامان کے درآمدی بل میں اضافہ ہے، امپورٹ بل اس سال 7 مہینوں میں 7.17فیصد اضافے سے 29.27 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینوں میں 27.31 ارب ڈالر تھا۔تمام مصنوعات کے کھانے پینے کے درآمدی بل نے جائزے کے دوران اس کی قدر اور مقدار میں اضافہ کا عندیا دیا ہے جو ملکی پیداوار میں قلت کا واضح اشارہ ہے۔فوڈ گروپ کی درآمد میں اہم حصہ گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحہ، چائے اور دالوں کا رہا، خوردنی تیل کی درآمد میں مقدار، قیمت اور قیمت کے لحاظ سے جائزہ لیا گیا گیا تو اس عرصے کے دوران کافی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پام آئل پر1.36 ارب ڈالر خرچ ہوئے

پام آئل کی درآمد کی بات کی جائے تو رواں سال کے 7 مہینوں میں قیمت 36.59فیصد اضافے کے ساتھ 1.3ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینوں کے مقابلے میں 1 ارب ڈالر تھا، مقدار کی بات کی جائے تو اسی دورانیے میں پام آئل کی درآمد میں 9.7فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔گھریلو صارفین کے لیے پچھلے کچھ مہینوں میں سبزی گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، وزارت خزانہ نے پہلے ہی وزارت صنعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھریلو صارفین کے لیے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھائے۔تاہم سویا بین تیل کی درآمد میں بالترتیب 10.39فیصد اور قیمت میں 13.96فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔پاکستان نے رواں سال کے 7 مہینوں میں 79کروڑ 45 لاکھ 90ہزار ڈالر مالیت کی 29لاکھ ٹن سے زائد گندم درآمد کی جبکہ پچھلے سال درآمد نہیں کی گئی تھی، گندم کی بڑی مقدار میں درآمد مارکیٹ میں بنیادی اشیائے خوردونوش کی رسد اور طلب کے تقاضوں کو ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔وفاقی حکومت نے مقامی مارکیٹ میں قلت سے بچنے کے لیے گندم کی مزید درآمدات پر بھی بفر اسٹاک بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

چینی کی درآمدات میں 7ہزار فیصد سے زائد اضافہ

اسی طرح رواں سال کے 7 مہینوں میں چینی کی درآمد 2لاکھ 78ہزار 482 ٹن رہی جو گزشتہ سال 3ہزار 744 ٹن تھی جس میں 7ہزار 338 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، چینی کی درآمد کا مقصد مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں کمی لانا تھا تاکہ رسد اور طلب میں موجود فرق کو پورا کیا جاسکے۔وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شوگر ملرز کو ملک میں کیری اوور اسٹاک بنانے کے لیے 5لاکھ ٹن ریفائن شوگر اور 3لاکھ ٹن خام چینی کی درآمد کی منظوری دے دی ہے۔چائے کی درآمدات میں رواں سال کے 7 ماہ کے دوران 22.17فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ مصالحوں میں 30.56 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔اس اضافے کی بنیادی وجہ ان مصنوعات کی ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد میں کمی اور سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کو کنٹرول کرنا ہے۔دالوں، خشک میوہ جات ، دودھ کی مصنوعات اور دیگر اشیائے خوردونوش کے درآمدی بل میں ان مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں