یوٹیوب نے غیر معینہ مدت تک ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بند کردیا

دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوٹیوب چینل کو غیر معینہ مدت تک بند کردیا۔ٰیوٹیوب نے ابتدائی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹیوب چینل رواں ماہ 13 جنوری کو معطل کیا تھا، اس وقت وہ امریکی صدر تھے۔یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے چینل کو اس وقت بند کیا جب یوٹیوب پر تنقید کی گئی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال دلانے والے مواد کے خلاف کارروائی میں سستی سے کام لے رہا ہے۔یوٹیوب سمیت دیگر سوشل ویب سائٹس پر عوام کی جانب سے اس وقت دباؤ بڑھا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے رواں ماہ 6 جنوری کو امریکی ایوان کے علاقے کیپیٹل ہل پر حملہ کردیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی ایوان، سینیٹ، سرکاری دفاتر اور سپریم کورٹ کے علاقے کیپیٹل ہل پر حملہ کرکے ایوان نمائندگان کی عمارت میں بھی توڑ پھوڑ کی تھی اور پرتشدد مظاہروں کے دوران 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر اس وقت حملہ کیا تھا جب کہ ان کی صدارت کی مدت ختم ہونے میں محض 14 دن رہ گئے تھے۔کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد ٹوئٹر نے بھی ہمیشہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کردیا تھا اور ان کی عہدہ صدارت کی مدت 20 جنوری کو مکمل ہوئی تھی۔عہدہ صدارت مکمل ہونے کے ایک ہفتے بعد اب یوٹیوب نے ان کا چینل غیر معینہ مدت تک بند کردیا۔خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس (اے ایف پی) کے مطابق یوٹیوب کے ترجمان نے تصدیق کی کہ 26 جنوری سے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل غیر معینہ مدت تک بند کردیا گیا۔ابتدائی طور پر ان کا چینل 13 جنوری کو بند کیا تھا اور اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو چینل سے پرتشدد اور غلط معلومات پر مبنی ویڈیوز ہٹانے کے نوٹس دیے گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹیوب چینل پر امریکی انتخابات سے متعلق غط معلومات کی ویڈیوز سمیت تشدد پر ابھارنے کی ویڈیوز بھی اپ لوڈ کی تھیں۔یوٹیوب پر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 30 لاکھ تھی، تاہم اب ان کے چینل کو غیر معینہ مدت تک بند کردیا گیا۔ساتھ ہی یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل Rudy Giuliani کی ایک ویڈیو پر بھی متعدد پابندیاں عائد کردیں۔یوٹیوب انتظامیہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل کی امریکی صدارتی انتخابات اور صدر جوبائیڈن سے متعلق کیے گئے غلط دعووں کی ویڈیو کو مونیٹائزیشن سے ہٹا دیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذکورہ ویڈیو سے پیسے نہیں کما سکیں گے۔تاہم یوٹیوب نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل مذکورہ ویڈیو کو مونیٹائزیشن میں شامل کرنے کے لیے ایک ماہ بعد اپیل کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں