قصور: طالبعلم پر 'تشدد' کرنے پر ایس ایچ او سمیت 4 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

قصور: اللہ آباد پولیس نے ایک طالبعلم کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے اور تشدد کرنے کے الزام میں اپنے ہی اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اور 4 کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ طالبعلم کے چچا سردار اورنگزیب کی شکایت پر واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق 13 جنوری کو پولیس نے ان کے بھتیجے محمد جورین کو اللہ آباد-قصور روڈ پر ایک بینک کے باہر سے اٹھایا جہاں ٹرانسپورٹرز کے دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دونوں کے ایک دوسرے کے خلاف لاٹھیوں کا استعمال کیا۔شکایت گزار کا کہنا تھا کہ پولیس نے مبینہ طور پر ان کے بھتیجے کو اٹھایا اور پولیس تھانے لے جا کر قید کردیا۔مقدمے میں پولیس کی جانب سے طالبعلم کو برہنہ کرنے کے بعد تشدد کر کے زخمی کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا، بعدازاں مقامی افراد کی مداخت پر اسے رہا کردیا گیا۔دوسری جانب چونیاں کے تعلقہ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نے س تھانے نے ڈاکٹ جاری نہ ہونے پر اس کے بغیر طبی معائنہ کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم تعلقہ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے طالبعلم کو ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا جس سے ہفتے کو طبی معائنے کی رپورٹ جاری کی۔مذکورہ معاملے پر اللہ آباد پولیس نے ایس ایچ او ظہیر عالم، کانسٹیبل لیاقت علی اور 3 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 342، 506 اور 337 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا۔خیال رہے کہ ملک میں پولیس کی جانب سے زیر حراست افراد پر تشدد کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے ہیں جن میں کئی افراد جان کی بازی بھی ہار گئے۔اس سے قبل 8 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں ملزم کی پراسرار ہلاکت پر یس ایچ او کو معطل کردیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم منیر عرف محسن کی جمعے کی رات تشدد سے طبعیت بگڑ گئی تھی جس پر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبز نہیں ہوسکا۔اسی طرح گزشتہ برس جون میں پشاور کے علاقے تہکال میں نوجوان کو پولیس اسٹیشن میں نیم برہنہ کر کے بدسلوکی اور تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔علاوہ ازیں اے ٹی ایم میں مضحکہ خیز حرکتیں کرنے کی ویڈیو سے مشہور ہونے والے ذہنی معذور شخص صلاح الدین کے پولیس حراست میں ہلاک ہونے کا واقعہ سامنے آیا تھا جس پر پولیس تشدد کی تصدیق ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں