علی ظفر کے خلاف مہم: حتمی چالان پیش کرنے کیلئے ایف آئی اے نے مہلت مانگ لی

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عدالت سے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی جھوٹی مہم کا حتمی چالان پیش کرنے کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی۔علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔اداکار و گلوکار نے ایف آئی اے کو انسٹاگرام پر اپنے منیجر کو فروری 2018 میں ملنے والی دھمکیوں کے ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔علی ظفر کی درخواست پر ایف آئی اے نے مذکورہ کیس کی تفتیش کرکے گزشتہ ماہ 16 دسمبر کو عدالت میں ابتدائی عبوری چالان بھی پیش کیا تھا، جس میں میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں حتمی عبوری چالان پیش کیا جانا تھا، جس کے تحت ہی ملزمان کے خلاف کارروائی ہونی تھی مگر اب ایف آئی اے نے تمام ملزمان کے خلاف حتمی عبوری چالان پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید مہلت مانگ لی۔مذکورہ کیس کی سماعت لاہور کے جوڈیشل میجسٹریٹ ذوالفقار باری کی عدالت میں ہوئی، جہاں ایف آئی اے کی وکلا سمیت ملزمان اور علی ظفر کے وکیل بھی شریک ہوئے۔

میشا شفیع بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
میشا شفیع بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکیں

دوران سماعت لینا غنی, عفت عمر٫ فریحہ ایوب ٫سید فیضان رضا اور حسیمس زمان عدالت میں پیش ہوئے جب کہ علی گل پیر پیش نہ ہوسکے۔سماعت کے دوران میشا شفیع بھی پیش نہ ہوسکیں اور ان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ گلوکارہ بیرون ملک ہیں، اس لیے انہیں حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔سماعت میں علی گل پیر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے ان کی پیشی کے لیے دوبارہ سمن جاری کیے جب کہ ایف آئی اے نے حتمی عبوری چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی۔عدالت نے ایف آئی اے کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ماہ 9 فروری تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ مذکورہ کیس علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کیس سے الگ ہے۔علی ظفر اور میشا شفیع کا ہتک عزت کیس بھی لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے۔علاوہ ازیں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جانے اور ان کی جانب سے جنسی ہراسانی کے کیس محتسب اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی اور اب ان کی درخواست کو جنسی ہراسانی کے ازخود نوٹس کیس میں ضم کرکے سماعت کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں