جھوٹی خبریں پھیلانا بند کریں، موجودہ ٹیم مینجمنٹ کے بعد ہی پاکستان کیلئے دستیاب ہوں گا'

فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ایک مرتبہ پھر سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیم مینجمنٹ کے جانے کے بعد ہی پاکستان ٹیم کے لیے دستیاب ہوں گے۔محمد عامر نے قومی ٹیم کی موجودہ مینجمنٹ سے اختلافات کے سبب ریتائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک یہ مینجمنٹ موجود ہے، اس وقت تک وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

آج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عامر نے اپنے سابقہ مؤقف کو پھر دہراتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس مینجمنٹ کے چھوڑنے کے بعد ہی میں پاکستان ٹیم کے لیے دوبارہ دستیاب ہوں گا لہٰذا اپنی خبریں بیچنے کے لیے غلط خبریں پھیلانا بند کریں۔گزشتہ ماہ 17دسمبر کو فاسٹ باؤلر محمد عامر نے احتجاجاً انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ ٹیم مینجمنٹ مجھے ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے اور میں موجود صورتحال میں ذہنی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پرفارمنس کے باوجود مجھ پر طنز کیا جاتا ہے اور موجودہ کوچز دبے لفظوں میں کہتے ہیں عامر نے دھوکا دیا اور اعلان کیا تھا کہ جب تک مصباح الحق اور وقار یونس ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ ہیں اس وقت تک میں نہیں کھیلوں گا۔بعدازاں اپنے یوٹیوب چینلن پر اس بارے میں تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے عامر نے کہا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ کے چارج سنبھالنے کے بعد میرا ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے انتخاب کیا گیا، ٹیم آسٹریلیا گئی اور وہاں ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد باؤلنگ کوچ وقار یونس اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کے میرے خلاف بیانات سامنے آئے اور وہ میرے پیچھے پڑ گئے اور کہا کہ عامر لیگس کھیلنے کے لیے ہمیں چھوڑ گیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ مجھے لیگس کھیلنی ہیں اس لیے مجھے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچز کے اسکواڈ کا حصہ نہ بنائیں، میں ہر وقت دستیاب تھا جبکہ لیگس کے لیے محدود این او سیز جاری ہوتی ہیں، انہوں نے لوگوں کے ذہنوں میں میرے خلاف باتیں ڈال کر میرا کردار خراب کرنا شروع کردیا جس سے میں تنگ آگیا، میں اگر کمزور ہوتا تو 2010 کے بعد دوبارہ کبھی کرکٹ کھیلتا ہی نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میری احسان مانی یا وسیم خان سے کوئی لڑائی نہیں ہے، میرا صرف یہ کہنا تھا کہ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ جس طرح کھلاڑیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، ‘جو ہم کہیں وہ کریں’ والی چیز ختم ہونی چاہیے، آج کا دور عزت دے کر عزت لینے کا ہے اور انتظامیہ کو اپنے اندر کا باس ختم کرنا پڑے گا’۔عامر نے کہا تھا کہ اس وقت کے بورڈ چیئرمین نجم سیٹھی اور کپتان شاہد آفریدی کی کوششوں کی وجہ سے ٹیم میں واپس آیا، جن کے پیٹوں میں اس وقت مروڑ تھا وہ آج بھی ہے اور شاید ہی ختم ہو، میں نے اس اذیت سے نکلنے کے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا، میرے لیے یہ فیصلہ مشکل تھا لیکن بہتری کے لیے لیا’۔عامر کے الزامات کے جواب میں کوچ مصباح الحق نے کہا تھا کہ ہمیں عامر سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ان کی کارکردگی میں توازن اور مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ڈراپ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں