پاکستان کی معیشت 1.5 فیصد تک بڑھے گی، موڈیز کی پیش گوئی

اسلام آباد: موڈیز کی انویسٹر سروس نے گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت میں 1.5 فیصد اضافہ ہوگا اور اس نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی تعاون کی وجہ سے پاکستانی بینک مستحکم ہیں تاہم بینکاری کے شعبے کو خطرات بڑھ رہے ہیں۔مودی نے پاکستانی بینکاری کے شعبے کے بارے میں اپنے آؤٹ لک میں کہا کہ ‘اقتصادی سرگرمیاں وبا کے پھیلاؤ سے قبل کی سطح سے نیچے رہیں گی جبکہ مالی سال 2021 میں معیشت کو 1.5 فیصد معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے’۔رواں مالی سال کے عالمی بینک کی 0.5 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک کے جی ڈی پی کے لیے 1.5-2.5 فیصد نمو کی پیش گوئی سے یہ مطابقت رکھتا ہے۔موڈیز نے کہا کہ پاکستانی بینکاری نظام کے لیے طویل المدتی قرضوں میں اضافے کی صلاحیت مضبوط ہے۔مستحکم نقطہ نظر بینکوں کی ٹھوس فنڈنگ اور لیکوئڈیٹی کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ ایک چیلنجنگ مگر بہتر بنانے والا آپریٹنگ ماحول اثاثوں کے معیار اور منافع پر وزن ڈالے گا۔موڈیز کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ ‘مشکل ماحول کے باوجود جاری اصلاحات اور پالیسیوں کی کی وجہ سے حکومت کا قرضوں کا پروفائل مستحکم ہے جو بینکوں کے لیے مثبت ہے’۔ایجنسی کو توقع ہے کہ سست معاشی بحالی سے قرض کے معیار پر اثر پڑے گا، نان پرفارمنگ لون (این پی ایل) کے آنے والے مہینوں میں ستمبر 2020 میں مجموعی قرضوں کی 9.9 فیصد سطح سے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے اور سرکاری ادائیگیوں اور سبسڈیز پر انحصار کرنے والی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی تاہم قرض کی ادائیگی کی تعطیلات اور حکومت کی امداد کے دوسرے اقدامات میں کچھ خطرات پیدا کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔دریں اثنا کا بینکوں کا منافع، جو 2020 کے دوران بڑھ چکا ہے، کم مارجن، کی وجہ سے دباؤ میں آئے گا۔پھر بھی مالی سال 2021 میں پاکستان کی معیشت کو 1.5 فیصد کی معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے جبکہ حکومت اور مرکزی بینک کے ردعمل اور اصلاحات سے کورونا وائرس کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپازٹ پر مبنی فنڈز اور اچھے لیکوئڈیٹی بفرز بھی طاقت بنے ہوئے ہیں جب کہ بحران میں حکومت کی مدد کا امکان زیادہ ہے چاہے اس کی صلاحیت معاشی چیلنجز کی وجہ سے محدود ہو’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں