سعودی عرب میں ایک ایسے شہر کی تعمیر جہاں گاڑیاں نہیں ہوں گی

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک منفرد شہر کو تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں گاڑیاں یا سڑکیں نہیں ہوں گی۔اس شہر کو دی لائن کا نام دیا گیا ہے جو کہ سعودی عرب کے 500 ارب ڈالرز کے اسمارٹ سٹی منصوبے نیوم (جس کا اعلان نومبر 2017 میں ہوا تھا) کا حصہ ہوگا۔اس نئے شہر کی تعمیر کا مقصد مستقبل کی آبادیوں کو ہائپر کنکٹ کرنا ہے۔سعودی ولی عہد کے مطابق دی لائن میں الٹرا ہائی اسپیڈ ٹرانزٹ سسٹم، خودکار ڈرائیونگ والی گاڑیاں اور ایسا شہری لے آؤٹ ہوگا جو بنیادی سہولیات جیسے اسکول اور طبی مراکز رہائشیوں تک پہنچائے گا۔ان سب مقامات پر کسی بھی جگہ سے 5 منٹ تک پیدل چل کر پہنچنا ممکن ہوگا اور کوئی بھی سفر 20 منٹ سے زیادہ طویل نہیں ہوگا۔سعودی اعلان کے مطابق اس شہر میں 10 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوں گے جو 170 کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوگا اور ماحول دوست توانائی سے اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔اعلان میں بتایا گیا کہ یہ شہر قدرت پر توجہ مرکوز کرے گا جس کی سطح پر پیڈسٹرین لیئر اور 2 اضافی لیئرز ہوں گی۔جہاں تک انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کی بات ہے تو وہ سطح کے نیچے ہوں گے۔حکام کے مطابق اس شہر میں اے آئی ٹیکنالوجی مانیٹرنگ کرے گی، جس کے لیے ڈیٹا اور ماڈلز کو استعمال کرکے روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کے ذرائع کا تعین کرے گی۔اس شہر کی تعمیر کا سلسلہ کچھ عرصے میں شروع ہوگا جس کے لیے 180 ارب سعودی ریال خرچ کیے جائیں گے جبکہ 3 لاکھ 80 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔خیال رہے کہ اکتوبر 2017 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں 500 ارب ڈالرز کی لاگت سے نئے شہر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔یہ شہر موجودہ حکومتی فریم ورک سے آزاد خودمختار حیثیت میں کام کرے گا اور اس کے لیے حکومت 500 ارب ڈالرز سے زائد سرمایہ خرچ کرے گی، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے خودمختار ویلتھ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔یہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کا حصہ ہے اور سعودی ولی عہد کے مطابق اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر میں اتنا بڑا پل بھی تعمیر کیا جائے جو کہ اس نئے شہر کو مصر، اردن اور افریقہ کے باقی حصوں سے ملا دے گا اور اس طرح دنیا میں پہلی بار تین ممالک کا پہلا خصوصی زون قائم ہوگا۔نیوم سعودی عرب کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جہاں روبوٹس کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہوگی جبکہ ہولگرام ٹیچرز جینیاتی طور پر تدوین شدہ طالبعلموں کو تعلیم دیں گے۔مستقبل کے اس شہر میں کیمرے، ڈرونز اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال ہوگا، تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔روبوٹ ملازمین یہاں گھر کا ہر کام کریں گے، روبوٹس کے درمیان کیج فائٹس بھی لوگوں کی تفریح کے لیے ہوں گی جبکہ روبوٹ ڈائناسور سے بھرے ایک امیوزمنٹ پارک کو بھی تعمیر کیا جائے گا۔اس خطے کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان نے اس شہر کی تعمیر کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں کہا تھا ‘میں کوئی شاہراہ نہیں چاہتا، ہم 2030 تک اڑنے والی گاڑیاں چاہتے ہیں’، ایک اور دستاویز میں لکھا ہے کہ ڈرائیونگ صرف تفریح کے لیے ہوگی، ٹرانسپورٹیشن کے لیے نہیں۔اس کی تفصیلات تو واضح نہیں مگر اس شہر کے لیے ایک مصنوعی چاند کی تجویز موجود ہے، جو کہ ممکنہ طور ڈرونز کے فلیٹ یا خلا سے لائیو اسٹریم امیجز کی مدد سے تیار ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں