زمین کی تیز ترین گردش سے تاریخ میں پہلی بار منفی لیپ سیکنڈ کا امکان

2020 انسانی تاریخ کا ایک بے نظیر سال ثابت ہوا جب پوری دنیا کے معمولات کورونا وائرس کی وبا کے باعث مہینوں تک متاثر رہے۔مگر وقت بھی 2020 کے اثرات بھی بچ نہیں سکا اور دنیا کے تیز ترین 28 دن (1960 سے اب تک) بھی سب 2020 میں ریکارڈ ہوئے، کیونکہ زمین اپنے مدار میں اوسط سے زیادہ رفتار سے گردش کررہی تھی۔ویسے یہ کوئی باعث تشویش نہیں، ہماری زمین کی گردش کی رفتار ہر وقت کچھ حد تک بدلتی رہتی ہے، جس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جیسے ماحولیاتی دباؤ، ہوا، سمندری کرنٹ اور کور کی حرکت۔مگر یہ جوہری گھڑی کو بالکل ٹھیک رکھنے والے افراد کے لیے مشکل کا باعث ضرور ہوتا ہے، جن کی بدولت ہماری گھڑیوں کے وقت ٹھیک رہتا ہے۔زمین کی گردش کو دیکھتے ہوئے اکثر لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے 1972 سے اب تک ایسا 27 بار ہوا ہے اور آخری بار ایسا دسمبر 2016 کو ہوا۔دنیا کے سات ارب سے زائد افراد میں سے بہت کم لوگوں کو اس تبدیلی کے بارے میں معلوم ہوتا ہے اور ان میں سے بھی اس اضافی لمحے کو گزارنے کا منصوبہ بنانے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔تاہم گھڑی سازی کے ماہرین کے لیے یہ اضافی سیکنڈ بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس کی اہمیت کے حوالے سے تکرار چلتی رہتی ہے۔تاہم یہ بات واضح رہے کہ آپ کو اس لیپ سیکنڈ کو اپنی پرانی گھڑیوں میں بڑھانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایسی سپر گھڑیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو کہ اٹامک میکنزم کی فریکوئنسی کا حساب رکھتی ہیں۔مگر زمین کی موجودہ گردش کے باعث تاریخ میں پہلی بار سائنسدانوں کی جانب سے لیپ سیکنڈ بڑھانے کی بجائے اسے منفی کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔یعنی ایک سیکنڈ کے اضافے کی بجائے اسے کم کردیا جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن میں 86 ہزار 400 سیکنڈز ہوتے ہیں مگر 2021 کا ایک فلکیاتی دن اوسطاً گھڑی میں 0.05 سیکنڈ مختصر ہوگا۔سال بھر میں اس کے نتیجے میں ایٹمی وقت میں 19 ملی سیکنڈ کا فرق آئے گا۔برطانیہ کے نیشنل فزکس لیبارٹری کے ماہر پیٹر ویبیرلے نے بتایا ‘ایسا بالکل ممکن ہے کہ ایک منفی لیپ سیکنڈ کی ضرورت اس وقت پڑے جب زمین کی گردش کی رفتار مزید بڑھ جائے، تاہم ابھی ایسا قبل از وقت ہوگا’۔انہوں نے مزید کہا ‘بین الاقوامی سطح پر لیپ سیکنڈز کے مستقبل کے حوالے سے بحث چل رہی ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ منفی سیکنڈ کی ضرورت کے نتیجے میں ہمیں لیپ سیکنڈز کے سسٹم کو ہی ختم کرنا پڑے’۔زمین کی گردش کے نتیجے میں تاریخ کا مختصر ترین فلکیاتی دن 19 جولائی 2020 کو ریکارڈ ہوا جب زمین کی گردش 86 ہزار 400 سیکنڈز سے 1.4602 ملی سیکنڈز تیز مکمل ہوئی۔پیرس میں واقع انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹمز سروسز کی جانب سے لیپ سیکنڈ کے نظام کا انتظام سنبھالا جاتا ہے اور اس کی جانب سے فی الحال کسی لیپ سیکنڈز کو شیڈول کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں