دبئی کے حکمران سمیت شاہی خاندان کے افراد کو تلور کے شکار کی اجازت

کراچی: وفاقی حکومت نے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور شاہی خاندان کے دیگر 6 افراد کو کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کے 7 خصوصی اجازت نامے جاری کردیے۔ذرائع نے بتایا کہ جن دیگر شکاریوں کو اجازت نامے جاری کیے گئے ان میں ولی عہد، نائب حکمران اور وزیر خزانہ و صنعت، نائب پولیس چیف، ایک فوجی عہدیدار، شاہی خاندان کے دیگر 2 افراد اور ایک تاجر شامل ہیں۔وزیراعظم کی منظوری کے بعد شکار کے خصوصی اجازت نامے وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول کی جانب سے جاری کیے گئے۔بعد ازاں یہ اجازت نامے اسلام آباد میں یو اے ای کے سفارتخانے بھیج دیے گئے تاکہ یہ شکاریوں کو بھیجے جاسکیں۔قبل ازیں گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شاہی خاندان کے 11 افراد تلور کے شکار کے لیے مکران ڈویژن کے علاقے پنجگور پہنچے تھے،سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ یو اے ای کے شاہی خاندان کے مذکورہ افراد خصوصی طیارے کے ذریعے پنجگور ایئرپورٹ پہنچے تھے، مذکورہ وفد کی سربراہی شیخ خلیفہ سیف النہیان اور سلطان سعید احمد کر رہے تھے، بعد ازاں انہیں سخت سیکیورٹی میں بذریعہ روڈ پیری جھلک میں ان کے محل پہنچایا گیا تھا۔یاد رہے کہ اس سے قبل دسمبر کے مہینے میں وفاقی حکومت نے بحرین کے بادشاہ شیخ حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ اور ان کے خاندان کے دیگر 5 افراد کو بین الاقوامی سطح پر محفوظ نایاب پرندے تلور کے شکار کے خصوصی اجازت نامے جاری کیے تھے۔ان اجازت ناموں کے جاری ہونے سے کچھ دن قبل دسمبر میں ہی متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے 11 افراد تلور کے شکار کے لیے ضلع چاغی پہنچے تھے۔ماہ دسمبر میں ہی وفاقی حکومت نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ان کے اہلخانہ کے 14 دیگر افراد کو 21-2020 کے شکار کے موسم میں بین الاقوامی سطح پر محفوظ پرندے تلور کا شکار کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے تھے۔اس سے قبل وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020 کے شکار سیزن میں تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کیا تھا۔واضح رہے کہ وسطی ایشیائی خطے میں رہنے والے تلور ہر سال سردیوں میں اپنے آبائی علاقوں میں سخت موسم سے بچنے کے لیے پاکستان آجاتے ہیں اور موسم سرما کے بعد وہ اپنے خطے میں واپس چلے جاتے ہیں۔عرب شکاریوں کی جانب سے تلور کے شکار کے باعث دنیا میں اس نایاب پرندے تلور کی تعداد میں کمی آئی ہے، جسے نہ صرف عالمی تحفظ کے مختلف کنونشنز کے تحت تحفظ حاصل ہے بلکہ مقامی وائڈ لائف پروٹیکشن قوانین کے تحت اس کے شکار پر پابندی عائد ہے۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ پاکستانی شہریوں کو تلور کے شکار کی اجازت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں