ملک میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آج سے آغاز

اسلام آباد: پاکستان میں سخت حفاظتی اقدامات اور پروٹوکولز کے تحت رواں سال کی پہلی پولیو مہم کا آغاز آج (پیر) سے ہورہا ہے۔ اس 5 روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہورہی ہے جس میں ملک بھر میں 5 سال سے کم عمر 4 کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔اس کے علاوہ 59 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو ویٹامن اے کے قطرے کی ضمنی خوراک بھی دی جائے گی، یہ حساس بچوں میں پولیو اور دیگر بیماریوں سے تحفظ کے لیے عام مدافعت پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔ادھر قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 85 ہزار فرنٹ لائن ورکرز والدین اور نگرانوں کے گھروں تک جائیں گے اور ب کووڈ 19 کے سخت حفاظی اقدامات اور پروٹوکولز کا اپناتے ہوئے بچوں کو ویکسین دیں گے، ان اقدامات میں ماسک پہننا، ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کرنا اور ویکسینیشن کے دوران مناسب فاصلہ برقرار رکھنا شامل ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بچوں کو بروقت اور بار بار ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہے، یہ مدافعتی فرق کو کم کرنے اور بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو فری پاکستان کے مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے تاہم اس کے لیے قوم خاص طور برادریوں اور 5 سال سے کم عمر بچوں کے والدین اور نگرانوں کی مکمل حمایت ضروری ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ سال 2021 میں 2020 میں اٹھائے گئے فائدے کو بڑھانے کا ایک بہتر موقع ہے، اس پروگرام کے تحت 2020 میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مدد اور ہمارے ہیروز فرنٹ لائن ورکرز کی لگن سے 6 بہترین مہمات پر عمل کیا گیا، ہمارے ہیروز نے کووڈ 19 کے خطرناک اثرات سے بچتے ہوئے اعلیٰ کوالٹی مہمات پر محفوظ طریقے سے عمل کیا۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ اور این ای او سی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ 2021 میں ملک 2020 میں حاصل کیے گئے فوائد کو برقرار رکھنے کی طرف دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوالٹی پولیو مہمات کے ساتھ ساتھ ہمارا مںصوبہ ہے کہ ہم پورے پاکستان میں ضروری حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو بڑھانے کی ہماری کوششیں جاری رکھیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی مدافعت کو فوری تقویت دینے لیے بار بار مہمات لازمی ہیں۔ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ ہمارے انتہائی پرعزم فرنٹ لائن ورکرز اور والدین اور نگرانوں کے تعاون سے پروگرام کا مقصد پولیو وائرس کے جغرافیائی گنجائش کو صرف زیادہ خطروں والے علاقوں تک محدود کرنا اور 2021 میں اس کے خاتمے کے مقصد کے قریب ہونا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیو پروگرام معاشرے کے مختلف طبقات اور تنظمیوں کے ساتھ شراکت میں چل رہا ہے، ان طبقات میں برادریاں، مقامی اثرانداز ہونے والے افراد، اطفال اور میڈیکل ایسوسی ایشنز، میڈیا، سماجی رضاکار، مذہبی رہنما، کھیلوں کی تنظمیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ شامل ہے، یہ تمام ویکسینیشن کی حمایت کرتے ہیں اور مقصد ہے کہ پاکستان پولیو فری ہو۔خیال رہے کہ پاکستان دنیا میں 2 پولیو والے ممالک میں سے ایک ہے جبکہ دوسرا ملک اس کا پڑوسی افغانستان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں