فوج کےخلاف بات کرنے والوں کا علاج ہونے والا ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کبھی پاکستان میں سول منتخب حکومت کے دور میں فوج کو اس طرح نشانہ بناتے نہیں دیکھا لیکن اطمینان رکھیں ان کا علاج ہونے والا ہے۔اسلام آباد میں سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘فوج کے خلاف زبان استعمال کرنے والے فوج کو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک منتخب حکومت کو گرا دے، کبھی پاکستان میں سول منتخب حکومت کے دور میں فوج کو اس طرح نشانہ بناتے نہیں دیکھا، اپوزیشن کی کوشش یہ ہے کہ فوج کو اتنا مجبور کرے اور اس پر دباؤ ڈالے کہ وہ جمہوری حکومت کو گرا دے’۔انہوں نے کہا کہ ‘پہلے اپوزیشن سمجھتی رہی کہ حکومت ختم ہوجائے گی لیکن جب حکومت مشکل صورتحال سے نکل آئی تو اب وہ مایوسی میں ایسی باتیں کر رہے ہیں لیکن اطمینان رکھیں، ان کا علاج ہونے والا ہے’۔

‘این آر او دینے سے زندگی آسان ہوجائے گی لیکن یہ پاکستان کی تباہی ہے’

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ماضی میں ملک کا وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بیرون ملک ملازمت کر رہا تھا، ملک کا وزیر اعظم دبئی کی کمپنی کی ملازمت کر رہا تھا، یہ لوگ مل کر چوری کر رہے تھے اور ان لوگوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘پرویز مشرف نے ان دونوں جماعتوں کو این آر او دیا، میں بار بار کہتا ہوں کہ این آر او نہیں دوں گا، میں این آر او دے دوں گا تو زندگی آسان ہوجائے لیکن یہ پاکستان کی تباہی ہے، این آر او کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آدھی رقم قرض اتارنے میں چلی جاتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم، وزیر دفاع خود منی لانڈرنگ کر رہے تھے، یہ خود منی لانڈرنگ کریں گے تو کسی کو نہیں روک سکیں گے، سارا گیم یہ چل رہا ہے کہ ہم ان مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیں’۔عمران خان نے کہا کہ ‘پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ ملکی مفاد کے لیے نہیں ذاتی مفاد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، کرپٹ حکومت کی وجہ سے ملک میں مسائل جنم لیتے ہیں اور دنیا حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف نکلتی ہے، ان لوگوں نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر این آر او لینے کی کوشش کی لیکن کرپٹ عناصر کو این آر او دینے سے ملک کو نقصان ہوگا’۔عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘یہ لوگ الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں لیکن ثبوت نہیں لاتے، ہم چار حلقے پر عدالت گئے اور چاروں حلقوں میں دھاندلی ثابت ہوئی’۔

‘بھارت، داعش کی پشت پناہی کر رہا ہے’

بلوچستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ افغان جہاد کے بعد پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی شروع ہوئی، کم آبادی اور ووٹوں کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، وفاق میں جو بھی حکومت بنتی تھی قبائلی سردار ان کے ساتھ اتحاد کر لیتے تھے، ترقیاتی فنڈز قبائلی سرداروں کے ذریعے تقسیم ہوتے تھے جس سے سردار امیر ہوگئے لیکن بلوچستان کے عوام غریب رہ گئے، تاہم ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے’۔صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں بریفنگ مل گئی تھی کہ بھارت ملک میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتا ہے، بھارت داعش کی پشت پناہی کر رہا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے، لیکن ہمارے اداروں نے مسلکی تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا’۔ٹیکس آمدنی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری ٹیکس مشینری بہت کرپٹ ہے، ملک کے 22 کروڑ عوام میں سے صرف 3 ہزار لوگ 70 فیصد ٹیکس دیتے ہیں، ٹیکس نظام کو شفاف بنانے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال نہیں کرتا تب تک اس سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، جبکہ وقت بتائے گا کہ نریندر مودی کی حکومت بھارت کو جتنا نقصان پہنچائے گی اتنا کسی حکومت نے نہیں پہنچایا ہوگا۔

‘ہماری کسی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں’

ملک کی خارجہ پالیسی اور سعودی عرب سے تعلقات میں سرد مہری سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن ہماری کسی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘پہلے افغانستان الزامات عائد کرتا تھا مگر اب اس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، جبکہ طالبان سے مذاکرات بھی ہم نے ہی کرائے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں