سالِ نو کے پہلے دن پاکستان میں 14 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش متوقع

اقوام متحدہ کے ادارے، بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کے مطابق سالِ نو کے پہلے دن پاکستان میں 14 ہزار 161 بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔دنیا بھر میں موجود افراد آج (یکم جنوری کو) صرف نئے سال کا جشن ہی نہیں منائیں گے بلکہ اپنے گھر آئے ننھے مہمانوں کا استقبال بھی کریں گے۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق سال 2021 کے پہلے دن دنیا بھر میں 3 لاکھ 71 ہزار 504 بچوں کی پیدائش متوقع ہے جن میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بچے، مجموعی تعداد کا 3.8 فیصد ہوں گے۔سال کے پہلے دن بچوں کی پیدائش کے تخمینے کے لیے یونیسیف نے اہم رجسٹریشن اور قومی سطح پر گھروں میں کیے جانے والے سروے میں لگائے گئے ممالک میں ہونے والی یومیہ اور ماہانہ پیدائش کے تخمینوں کا استعمال کیا۔یونیسیف نے یکم جنوری 2021 کو پیدا ہونے والے بچوں اور ان کی متوقع عمر کا تخمینہ لگانے کے لیے بچوں کی سالانہ تعداد اور ان کی متوقع عمر سے متعلق حال ہی میں نظرثانی شدہ اقوام متحدہ کے عالمی آبادی کے امکانات (2019) کا استعمال کیا۔سالِ نو کے موقع پر بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک فجی میں 2021 کے پہلے بچے کی پیدائش ہوگی۔عالمی سطح پر بچوں کی پیدائش کی کُل تعداد میں سے نصف بچے 10 ممالک میں ہی پیدا ہوں گے، ان میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ سالِ نو کے پہلے روز سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش بھارت میں ہوگی۔یونیسیف کے مطابق یکم جنوری کو بھارت میں 59 ہزار 995، چین میں 35 ہزار 615، نائیجیریا میں 21 ہزار 439، پاکستان میں 14 ہزار 161، انڈونیشیا میں 12 ہزار 336، ایتھوپیا میں 12 ہزار 6، امریکا میں 10 ہزار 312، مصر میں 9 ہزار 455، بنگلہ دیش میں 9 ہزار 236 اور جمہوریہ کانگو میں 8 ہزار 640 بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔سالِ نو پر پید ا ہونے والے بچوں کی متوقع اوسط عمر کا تخمینہ لگ بھگ 73 برس لگایا گیا ہے۔پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ آئڈا گرما نے کہا کہ ‘یہ ہم سب کے لیے ایک مشکل سال رہا ہے اور دنیا میں نئی زندگیوں کا خوش آمدید کہنے کے علاوہ نیا سال شروع کرنے کا شاید کوئی بہتر طریقہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ 2020 کے چیلنجز اور 2021 کے مواقع کے ساتھ ہمارے پاس اب وقت ہے کہ دنیا کو رہنے لیے بہتر جگہ بنایا جائے، آج پیدا ہونے والے اس دنیا کے وارث ہوں گے جو آج ہم ان کے لیے بنانا شروع کریں گئ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں