برطانیہ اور ترکی کا بریگزٹ کے بعد کا تجارتی معاہدہ ہوگیا

انقرہ: برطانیہ جہاں نئے سال کے آغاز پر یورپی یونین کا اقتصادی مدار چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے وہیں اس نے ترکی ساتھ ؎آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ یہ معاہدہ جو یکم جنوری سے نافذ العمل ہوگا، کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ ہے جو 2019 میں 25 ارب ڈالر سے زیادہ کی مالیت کے تھے۔بریگزٹ کے کا یہ معاہدہ ان معاہدوں میں شامل ہے جس کی برطانوی حکومت دنیا بھر کے ممالک سے کرنا چاہتی ہے جبکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔برطانیہ نے رواں سال 31 جنوری کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی تاہم 31 دسمبر کو ختم ہونے والی منتقلی کی مدت تک یہ یورپی یونین کے کاروباری قواعد و ضوابط کے تحت رہا ہے۔ترکی کے وزیر تجارت روہسر پیکان اور ترکی میں برطانوی سفیر ڈومینک چِلکوٹ نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔روپہسر پیکان نے اس معاہدے کو 1995 میں یورپی یونین کے ساتھ کسٹم یونین کے معاہدے پر دستخط کے بعد ترکی کے لیے سب سے اہم تجارتی معاہدہ قرار دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادانہ تجارت کا معاہدہ ترکی اور برطانیہ کے درمیان تعلقات میں ایک نیا اور خصوصی سنگ میل ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ ترکی کی دوسری سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے 2019 میں ترکی کو سامان برآمد کرنے والے تقریبا 7 ہزار 600 برطانوی کاروباروں کے لیے موجودہ ترجیحی نرخوں کو محفوظ بنایا جائے گا اور اشیا کا ٹیرف فری بہاؤ کی یقین دہانی کی جائے گی۔دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مزید جامع معاہدے کا باعث بنے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں