بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے بعد 75 افراد کو حراست میں لے لیا

بھارتی حکومت نے علاقائی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد سیاسی بدامنی پھیلانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں کم از کم 75 سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں ضلعی کونسل کے انتخابات ختم ہوے جو گزشتہ سال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے بھارت کے زیر کنٹرول مسلم اکثریتی علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد یہ پہلے اس طرح کے انتخابات تھے۔اس کے بعد نئی دہلی نے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاون کیا اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا تاکہ احتجاج اور تشدد کو ختم کیا جاسکے۔ایک سینئر پولیس عہدیدار سرکاری پالیسی کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد، جن میں علیحدگی پسند رہنما اور کالعدم جماعت اسلامی گروپ کے ممبران شامل ہیں، کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا ہے۔بھارت اور پاکستان نے 1947 میں برطانوی حکمرانی سے چھٹکارا پانے کے بعد سے ہی کشمیر کے خطے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔دونوں ممالک میں جو 3 جنگیں لڑی گئی ہیں ان میں سے دو ہمالیہ کے خطے میں لڑی گئی ہیں۔علاقائی پارٹی اور اتحاد کے ایک اہم رکن نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ حراست میں لیا جانا عوام کے فیصلے کو مجروح کرتی ہیں۔سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ نے کہا کہ اتحاد کی فتح سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ طویل نظربندی سے رہائی کے بعد جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اکتوبر میں مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کی پرامن بحالی کے لیے اتحاد کا اعلان کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں