اسٹیل کے بارز، سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ

کراچی: مینوفیکچررز نے اسٹیل بار کی قیمتوں میں 5000 روپے فی ٹن اضافے کے بعد قیمت ایک لاکھ 26 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 28 ہزار 500 روپے کردی۔ نومبر کے وسط سے لے کر اب تک مجموعی طور پر اس کی قیمت میں 15ہزار روپے فی ٹن اضافہ ہوا ہے۔بلڈرز نے بتایا ہے کہ سیمنٹ کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور گزشتہ دو مہینوں میں یہ 45 روپے اضافے کے ساتھ 650 روپے فی 50 کلو کا بورا ہوچکا ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (اے بی اے ڈی) حسن بخشی کا کہنا تھا کہ اسٹیل بار بنانے والوں نے بلڈرز کو بین الاقوامی سطح پر سکریپ مارکیٹ میں اعلی اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اعلیٰ اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے فی ٹن قیمت میں اضافہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریلی اسٹیلز لمیٹڈ کی طرف سے ایک پیغام بھیجا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ 19 دسمبر 2020 سے ایکس ٹریم ریبارز کی ملک بھر میں فروخت کی بکنگ بند کی جارہی ہے۔بلڈرز نے سیمنٹ اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے کو وزیر اعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم (این ایچ پی ایس) کے خواب اور قومی معیشت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔چیئرمین اے بی اے ڈی فیاض الیاس نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان ’بے ایمان عناص‘ کے خلاف سخت کارروائی کریں جو قومی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے اقدامات کو سبوتاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ‘بیشتر خام مال مقامی سطح پر تیار ہونے کے باوجوف سیمنٹ اور اسٹیل مینوفیکچررز نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا’۔سیمنٹ اور اسٹیل تعمیراتی صنعت کا مرکزی سامان ہیں تاہم ان دو مواد کے تیار کنندہ بغیر کسی جواز کے رقم کمانے میں مصروف ہیں۔تاہم پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار میں آئرن اور اسٹیل کے اسکریپ کی قیمتوں میں کمی کا اشارہ دیا گیا ہے۔پی بی ایس کے مطابق نومبر 2020 میں آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی اوسط فی ٹن قیمت 454 ڈالر فی ٹن ہوگئی جو اکتوبر 2020 میں 392 ڈالر فی ٹن تھی۔نومبر میں لوہے اور اسٹیل کی درآمدات 3 لاکھ 81 ہزار 891 ٹن تھیں جن کی قیمت 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہی جبکہ اکتوبر میں یہ اعداد و شمار 4 لاکھ 11 ہزار 228 ٹن اور قیمت 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں