تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کی نماز جنازہ ادا

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انتقال کرجانے والے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جبکہ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا تھا۔اس موقع پر کچھ افراد کی جانب سے موبائل فون کے سگنل میں دشواری کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔خادم حسین رضوی کی تدفین کے حوالے سے پارٹی کے کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ ان کی تدفین یتیم خانہ چوک میں مسجد کے احاطے میں کی جائے گی جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ انہیں اسکیم موڑ کے قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔

خادم حسین رضوی کا جسد خالی ایمبولنس میں لایا گیا—اسکرین شاٹ
خادم حسین رضوی کا جسد خالی ایمبولنس میں لایا گیا

واضح رہے کہ خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔خیال رہے کہ 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ نے بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔

19 نومبر کی دوپہر کو ان کی طبیعت بگڑی تھی جس پر انہیں شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رپورٹس کے مطابق انہیں مردہ قرار دیا گیا تھا تاہم ان کے اہلِ خانہ انہیں نزدیکی نجی ہسپتال لے کر گئے جہاں ان کی وفات کی تصدیق کی گئی تھی۔

خادم رضوی کے انتقال پر چند لوگوں نے ان کی موت کی وجہ کووِڈ 19 کو قرار دیا تھا جبکہ دیگر نے کہا تھا کہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تاہم ان کے اہلِ خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لیے ان کا متبادل تلاش کرنا مشکل وقت ہوگا، ہوسکتا ہے جلد ہی پارٹی شوریٰ کا اجلاس ہو جس میں آیا موجودہ نائب سید ظہر الاسلام حسن یا ان کے دونوں بیٹوں میں سے ایک کو اس عہدے کے لیے کیا منتخب کیا جائے۔تاہم کارکنان کے مطابق ایسی عمدہ شخصیت کی جگہ لینا نہ ہی ان کے جانشین اور نہ ہی جماعت کے لیے آسان ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ابھی پارٹی کی جانب سے ان کے جانشین یا شوریٰ کے اجلاس سے متعلق باقاعدہ کچھ نہیں کہا گیا۔اس حوالے سے ایک پارٹی کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’کارکنان اور پارٹی قیادت کو اس اچانک پہنچنے والے صدمے س نکلنے کے لیے وقت لگے گا‘۔انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹی ایل پی ایک سیاسی نہیں مذہبی جماعت ہے، جہاں اس کا قائد مذہبی اور روحانی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور ذاتی اطاعت بھی رکھتا ہے، چونکہ یہ نقصان تمام کارکنان کے لیے ذاتی ہے اور اسے تسلیم کرنے اور اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔

خادم حسین رضوی کون تھے؟

خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو پنجاب کے ضلع اٹک میں نکہ توت میں اجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے جبکہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی بتدائی زندگی کے بارے میں اپنے قریبی لوگوں کو بھی زیادہ نہیں بتایا۔انہوں نے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن اور شیخ الحدیث تھے اور لاہور میں داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرتے تھے۔انہوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ 2006 میں گوجرانوالہ کے قریب ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد سے وہیل چیئر پر ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے یہ حادثہ ان کی گاڑی کے ڈرائیور کی وجہ سے پیش آیا تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے سو گئے تھے۔علامہ خادم حسین رضوی کی گاڑی راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی۔وہ مشہور اسلامی اسکالر امام احمد رضا خان بریلوی کے پیروکار تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں