برطانوی کمیٹی کی رپورٹ میں لارڈ نذیر پر سنگین الزامات عائد

لندن: پاکستانی نژاد برطانوی لارڈ نذیر احمد نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وہ 20 سال کی خدمات کے بعد یوکے ہاؤس آف لارڈز میں اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اس کے ایک دن بعد ایوان بالا کے ذریعے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کنڈکٹ کمیٹی نے جنسی بدسلوکی کے سلسلے میں کی گئی انکوائری کے بعد انہیں ملک سے نکالنے کی سفارش کی ہے۔ اس فیصلے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پہلی بار اتنے اہم مرتبے پر فائض کسی شخص کو ملک بدر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ لارڈ نذیر احمد نے اپنی پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنے ذاتی اعزاز پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہوئے عوام کی مدد کے لیے ایوان کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدے کے استعمال پر رضامندی ظاہر کر کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، شکایت کنندہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا، معالج و عامل کے ہاتھوں زیادتی کا شکار شکایت کنندہ سے جھوٹ بولنا کہ وہ اس استحصال سے متعلق میٹروپولیٹن پولیس کو شکایت کرنے میں ان کی مدد کریں گے، شکایت کنندہ کو جذباتی اور جنسی طور پر جاننے کے باوجود جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمشنر نے پایا کہ لارڈ نذیر احمد جانتے تھے کہ وہ ایک کمزور شخص کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو پریشانی اور افسردگی کا علاج کرا رہا تھا اور جس نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ وہ جنسی تعلقات نہیں چاہتی تھی، بہرحال انہوں نے گمراہ کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز کے رکن کی حیثیت سے مدد کی پیش کش کے بہانے اسے اپنے گھر پر ملنے کے لیے اکسایا۔برطانیہ کی میڈیا رپورٹس کے مطابق 43 سالہ طاہرہ زمان نے تین سال قبل اس امید پر لارڈ نذیر سے رابطہ کیا تھا کہ وہ مسلمان معالج و عامل کے خلاف پولیس کی تفتیش میں ان کی مدد کریں گے جسے وہ وہ خواتین کے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔طاہرہ زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ لارڈ نذیر نے بار بار انہیں عشائیے پر طلب کیا اور آخر کار وہ راضی ہو گئیں۔کئی ہفتوں بعد جب انہوں نے اس کیس کے سلسلے میں ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے خاتون کو مشرقی لندن کے گھر آنے کو کہا، دونوں کا اتفاق رائے سے جنسی تعلق تھا تاہم انہوں نے کہا میں مدد کی تلاش میں تھی اور انہوں نے میرا فائدہ اٹھایا، انہوں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا۔لارڈ نذیر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور انھیں 1998 میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سفارش پر لائف پیئر بنایا گیا تھا، وہ فی الحال روتھرم میں مقیم ہیں اور وہ اس ہفتے ریٹائر ہونے تک ایوان میں بیٹھے رہیں گے۔ان کی متعدد سیاسی سرگرمیاں برطانیہ اور بیرون ملک مسلم برادری کی وکالت سے متعلق ہیں، ٹوئٹر پر وہ خود کو ‘کشمیریوں کے لیے مہم چلانے والا’ اور ایوان میں ‘تاحیات مقرر کردہ پہلے مسلمان رکن’ کے طور پر بیان کرتے ہیں، انہوں نے 2013 میں لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔وہ 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستان آئے تھے، دونوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔انکوائری رپورٹ میں کمیٹی کے سربراہ نے مشاہدہ کیا کہ لارڈ نذیر اپنی ملاقاتوں کے درمیان طاہرہ زمان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہیں کررہے تھے البتہ اس نے انہیں اس بات پر یقین کرنے کی ترغیب دی کہ وہ ہیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ اہم معاملات پر لارڈ نذیر احمد نے طاہرہ زمان کے ساتھ اپنے سلوک کو چھپانے کے لیے جان بوجھ کر غلط اور گمراہ کن بیانات دیے، سمجھتا ہوں کہ اس طرح سے وہ میری تحقیقات میں حقیقی طور پر تعاون کرنے میں ناکام رہے، جیسا کہ ثبوتوں سے ظاہر ہے کہ اپنی ذاتی ساکھ کے مطابق عمل کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ لارڈ نذیر نے شکایت کنندہ کے ساتھ مختصر تعلقات رکھنے کا اعتراف کیا لیکن انہوں نے یہ قبول نہیں کیا کہ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی کوئی بھی خلاف ورزی کی ہے۔پچھلے سال ایک بیان میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ میں اس الزام کی مکمل طور پر تردید کرتا ہوں کہ میں نے عوام کے کسی شخص سے نامناسب تعلقات قائم کرنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا یا یہ کہ میں نے میری ذاتی یا پیشہ ورانہ حیثیت میں خواتین کی موجودگی میں غیر مناسب عمل کیا ہے۔

بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مقدمے کی سماعت التوا کا شکار

ایک الگ کیس میں سنہ 2019 میں لارڈ نذیر اور ان کے دو بھائیوں پر کم سن بچوں سے جنسی جرائم کا الزام عائد کیا گیا تھا، ملزمان نے تمام معاملات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔لارڈ نذیر پر 11 سال سے کم عمر کے لڑکے کے خلاف سنگین جنسی زیادتی اور اسی لڑکے کے ساتھ بدتمیزی کا الزام لگایا گیا تھا، 16 سال سے کم عمر لڑکی سے دو مرتبہ زیادتی کی کوشش کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، یہ تمام الزامات 1971 سے 1974 کے درمیان کی تاریخ سے متعلق ہیں۔ان کے بھائی محمد فاروق پر ایک لڑکے سے چار مرتبہ نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، ان شمارات میں سے ایک کا تعلق 1960 کی دہائی کے آخر سے ہے جب یہ لڑکا 8سال سے کم عمر کا تھا، ان کے دوسرے بھائی محمد طارق پر 11 سال سے کم عمر کے لڑکے کے خلاف دو بے بنیاد حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس مقدمے کی سماعت اس سال جنوری میں شروع ہونا تھی لیکن جیوری کے مقدمات میں کووڈ-19 کی پابندیوں کی وجہ سے اسے جنوری 2021 میں دوبارہ سماعت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں