فرانسیسیوں پر حملے کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، مہاتیر محمد

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ انہیں یہ ناگوار گزرا کہ ان کے فرانس میں انتہاپسندوں کے حملوں پر بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔امریکی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق 95 سالہ مہاتیر محمد نے اس وقت بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا جب انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ اگر ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے تو ماضی میں ہوئے قتل عام کے لیے مسلمانوں کو غصہ کرنے اور لاکھوں فرانسیسی لوگوں کے قتل کا حق ہے۔ٹوئٹر کی جانب سے مہاتیر محمد کے اس ریمارکس پر مشتمل ٹوئٹ کو تشدد کو بڑھاوا دینے کا کہتے ہوئے ہٹا دیا گیا جبکہ فرانس کے ڈیجیٹل منسٹر نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاتیر محمد کے لیے اپنے پلیٹ فارم پر پابندی لگائے۔تاہم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ’میں واقعی غلط بیانی کرنے کی کوششوں سے بیزار ہوں اور جو میں نے اپنے بلاگ میں لکھا اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ناقدین ان کی پوسٹ خاص طور پر اگلا جملہ پڑھنے میں ناکام رہے، جس میں لکھا تھا کہ ’لیکن مسلمان کی طرف سے اور بڑے پیمانے پر آنکھ کے بدلے آنکھ کے قانون کا اطلاق نہیں کیا جاتا، مسلمان ایسا نہیں کرتے (لہٰذا) فرانسیسیوں کو بھی نہیں کرنا چاہیے، اس کے برعکس فرانسیسیوں کو اپنے لوگوں کو دوسرے لوگوں کے جذبات کا احساس کرنے کی تلقین کرنی چاہیے‘۔انہوں نے لکھا کہ ٹوئٹر اور فیس بک نے وضاحت کے باوجود ان کی پوسٹ ہٹا دی، جو منافقانہ عمل ہے۔مہاتیر محمد کے مطابق دوسری جانب یہ ان کا دفاع کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکے دکھانے کا انتخاب کیا اور یہ توقع کرتے ہیں کہ مسلمان اسے آزادی اظہار رائے کے طور پر اسے نگل لیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر یہ حذف کیا کہ مسلمان ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیتے تھے، میرے مضمون پر اس طرح کے ردعمل سے جو باتیں فروغ پارہی ہیں وہ مسلمانوں کے لیے فرانسیسی منافرت کو ہوا دینا ہے۔ملائیشیا کے دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمد کی جانب سے یہ ردعمل فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان اور گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کے سر قلم کیے جانے کریک ڈاؤن کے بعد ہونے والے کریک ڈاؤن پر مسلم اقوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے مطالبے کے لیے تھا۔ادھر ملائیشیا کے لیے امریکی سفیر کمالا شریں لکھدر کا کہنا تھا کہ وہ مہاتیر کے بیان سے سخت اختلاف کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آزادی اظہار رائے حق ہے لیکن تشدد نہیں‘۔وہی ملائیشیا میں آسٹریلوی ہائی کمشنر انڈریو گولڈزنوسکی نے لکھا کہ اگرچہ مہاتیر محمد موجودہ صورتحال میں اصل تشدد کی حمایت نہیں کر رہے تھے لیکن الفاظ کے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ مہاتیر محمد 2018 میں دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے فروری 2020 میں استعفیٰ دے دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں