عراق: سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کیلئے قرض دینے پر تنازع

خانہ جنگی کے شکار رہنے والے مشرق وسطی ملک عراق کے سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد و خواتین کو قرض دینے کی پیش کش پر تنازع کھڑا ہوگیا۔برطانیہ کی عرب ویب سائٹ القدس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عراق کے سرکاری رشید بینک کی جانب سے چند دن قبل ہی دوسری شادی کے خواہش مند افراد کے لیے قرض فراہم کرنے کی اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا۔رشید بینک کی جانب سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد و خواتین کو بینک کی جانب سے ایک کروڑ عراقی دینار یعنی 10 ہزار امریکی ڈالر سے کم قرض دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔اسی حوالے سے گلف نیوز نے بتایا کہ مذکورہ مہم سرکاری ملازمین کے لیے تھی اور قرض حاصل کرنے والے خواہش مند حضرات کے لیے 2 سال تک ملازمت کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔بینک نے دوسری شادی کے لیے قرض کے لیےیہ شرط بھی رکھی تھی کہ خواہشمند شخص نے شادی کے لیے پہلے قرض نہ لے رکھا ہو اور نہ ہی اس کی بیوی نے ایسا قرض لیا ہو۔سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کے لیے قرض فراہم کرنے کے اعلان کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف عراق سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے بینک پر شدید تنقید کی اور حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔بینک کی جانب سے دوسری شادی کے لیے ایک کروڑ دینا کا قرض دینے پر کئی سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں نےبھی بینک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کو ایسی متنازع مہم پر شرم آنی چاہیے۔

زیادہ تر خواتین سیاستدانوں اور خواتین کے حقوق کی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کو اتنا ہی قرض نوجوانوں کو چھوٹے کاروباروں کے لیے دینا چاہیے، نہ کہ دوسری شادی کے لیے۔کئی خواتین نے بینک کی اسکیم کو خواتین کی تضحیک قرار دیا اور کہا کہ اس سے عندیہ ملتا ہےکہ خواتین کی کوئی قدر اور قیمت نہیں۔لوگوں کی تنقید کے بعد رشید بینک نے اپنی اسکیم پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اسکیم صرف ان افراد کے لیے ہے جن کی بیوی یا شوہر مر چکا ہوگا یا ان کی طلاق ہوچکی ہوگی۔بینک کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ مہم کا مقصد طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین کو ان کے ساتھی تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ساتھ ہی بینک نے کہا کہ مذکورہ اسکیم سے وہ مرد حضرات فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی طلاق ہوچکی ہوگی یا پھر ان کی بیوی کا انتقال ہوچکا ہوگا۔بینک کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیے جانے کے باوجود اس پر شدید تنقید جاری ہے۔واضح رہے کہ عراق سمیت دیگر مشرق وسطی ممالک میں مرد حضرات کی جانب سے ایک سے زائد شادیوں کا رجحان پایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں