بھارتی جاسوسوں کی رہائی کی درخواست ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوادی گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے 4 بھارتی جاسوسوں کی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست مزید کارروائی کے لیے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھجوادی۔جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کی سربراہی کررہے جو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل دفاع مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کررہا ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار ارپنا رے کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں 4 بھارتی جاسوسوں کی رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔مذکورہ جاسوسوں کو پاکستان کی فوجی عدالتوں سے جاسوسی پر سزا سنائی گئی تھی اور پٹیشن کے مطابق وہ اپنی قید کی سزا کی مدت پوری کرچکے ہیں۔بھارتی ہائی کمیشن نے لاہور کی سینٹرل جیل میں قید بِرجو دنگ عرف بِرچھو، کمار گھنشیام کمار اور ستیش بھوگ جبکہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید سونو سنگھ کی رہائی کی درخواست کی۔پٹیشن میں کہا گیا کہ ’قیدیوں نے فوجی عدالتوں یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کی سنائی گئی سزا پوری کرلی ہے‘۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’قیدیوں کو پاکستان فوج کے حکام نے گرفتار کیا تھا اور ان پر پاکستان آرمی ایکٹ 1954 کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔ہائی کمیشن نے اپنی درخواست میں جاسوسں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا‘۔خیال رہے کہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’قیدیوں نے اپنی متعلقہ سزا پوری کرلی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کا آئین واضح الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں رکھا جائے گا، یہ دفعہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 21 سے کافی مماثلت رکھتی ہے جو زندگی اور آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے‘۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی ملک کے کسی بھی فرد کو پاکستانی حکام کی جانب سے رکھا جاتا ہے تو وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اور آزادی کے لیے قانون کے شاندار تحفظ تک ان کو رسائی دی جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک یہ حقوق اور وقار کا معاملہ ہے۔درخواست کے مطابق پاکستانی آئین کا آرٹیکل 10 (اے) تمام کے مصفانہ ٹرائل کو یقینی بناتا ہے اور آرٹیکل 4 میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہر دوسرا فرد پاکستان میں قانون کے تحفظ میں ہے اور اس طرح کے فرد کے حقوق سے قانون کے تحت ہی نمٹا جائے گا‘۔درخواست میں الزام لگایا تھا کہ ان آئینی شقوں کے باوجود بدقسمتی سے حکام نے ان قیدیوں کو قانونی حقوق سے محروم کردیا ہے۔عدالت میں دائر درخواست کے مطابق اپرنا رائے نے سیکریٹری خارجہ کو کئی مرتبہ زبانی پیغام بھیجے کہ چونکہ یہ قیدی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں تو انہیں رہا اور وطن واپس بھیجا جائے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔درخواست گزار کا کہنا تھا ’انسانیت اور عام اخلاقیات کی خاطر درخواست گزاروں کی جانب سے مدعا علیہ نمبر 2 (سیکریٹری امور خارجہ) سے درخواست کی تھی کہ سابق مجرمان کو جیلوں سے رہا کیا جائے لیکن مدعا علیہ نمبر 5 (اپرنا رائے) کی جانب سے اٹھائے گئے تمام معقول اور حقیقی اعتراضات کو مسترد کردیا گیا‘۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس وقت متعلقہ قیدیوں کی حراست غیر قانونی ہے، لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ سرکاری حکام کو ہدایات جاری کریں کہ وہ انصاف کے تحت ان قیدیوں کو رہا کرے اور انہیں واپس ان کی سرزمین بھارت جانے دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں