بے گھر افراد کی مدد کرنے والا 'بیٹ مین'

عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے وہیں کچھ لوگ دوسروں کی مدد کرنے میں بھی مصروف ہیں۔دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے ضرورت مند کی مدد کے لیے مختلف انداز اپنائے، کہیں کوئی گھروں کے دروازوں کے باہر ضروری سامان پہنچا گیا تو کسی نے بھیس بدل کر مدد کی۔کچھ ایسا ہی جنوبی امریکی ملک چلی میں ہوا جہاں مشہور زمانہ ہولی وڈ سیریز ‘بیٹ مین’ کا لباس پہنے ایک شخص بے گھر اور ضرورت مند افراد کی مدد کررہا ہے۔چلی کے دارالحکومت میں کئی ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد بیٹ مین کا بھیس بدل کر ایک اجنبی شخص کو سان تیاگو میں ضرورت مند افراد کو کھانا اور ہلکا پھلکا سامان فراہم کرتے دیکھا گیا۔برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فیس ماسک کے ساتھ بیٹ مین کا چمکدار سوٹ پہنے ایک شخص روزانہ کی بنیاد پر جنوبی امریکی ملک کے دارالحکومت میں بے گھر افراد کو گرم کھانے کی درجنوں پلیٹیں فراہم کرتا ہے۔

—فوٹو: رائٹرز

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی شناخت نہ کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپنے ارد گرد نظر ڈالیں، دیکھیں کہ کیا آپ تھوڑا سا وقت، تھوڑا سا کھانا، تھوڑا سی پناہ، حوصلہ افزائی کے کچھ الفاظ انہیں دے سکتے ہیں جنہیں اس کی ضرورت ہو۔   ان کا کہنا تھا کہ بیٹ مین کا روپ دھارنے کا مقصد لوگوں کو خوش اور متحد کرنا ہے۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ پابندیوں کے باعث چلی کی معیشت تباہ ہوگئی ہے اور بیروزگاری 12 فیصد کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی ہے جس نے ایک دہائی طویل ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

—فوٹو: رائٹرز

اور بیٹ مین کے لباس کے باوجود مدد حاصل کرنے والوں میں سے سیمن سلواڈور نے کہا کہ حقیقی جذبات واضح ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک انسان سے دوسرے انسان تک سراہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں