بھارت: ممبئی کی 57 فیصد کچی آبادی کو کورونا وائرس کا سامنا رہا ہے، سروے

ایک نئے سروے میں پتا چلا ہے کہ بھارت کے تجارتی دارالحکومت ممبئی کے تین علاقوں میں کچی آبادیوں کے نصف سے زائد عوام میں کورونا وائرس کے اینٹی باڈیز کا مثبت تجربہ کیا گیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسی علاقوں میں کچی آبادیوں کے باہر رہنے والے افراد میں سے 16فیصد میں کورونا وائرس کے اینٹی باڈیز ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔

یہ نتائج جولائی کے اوائل میں تین گنجان آباد علاقوں میں تقریبا 7 ہزار افراد کی رینڈم ٹیسٹنگ سے برآمد ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ممبئی میں 28 جولائی تک ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد کیسز اور 6 ہزار 187 اموات رپورٹ ہوچکے ہیں۔یہ سروے شہر کی بلدیہ حکومت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈمنٹل ریسرچ نے کیا۔اس میں انکشاف ہوا کہ چیمبور، ماتنگا اور داہسر کی کچی آبادیوں میں ٹیسٹ کیے گئے 57 فیصد لوگوں کا کورونا وائرس کا سامنا رہا ہے۔شہر کے مغربی ، مشرقی اور وسطی حصوں میں واقع ان تینوں علاقوں میں تقریبا 15 لاکھ افراد رہتے ہیں۔اس تحقیق میں شامل سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نتائج نے بھارت کے بدترین متاثر شہروں میں سے ایک شہر میں انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں متعدد چیزوں کی نشاندہی کی ہے۔ان میں سے پہلی یہ ہے کہ شہر کی کچی آبادیوں میں پہلے کے خیال سے یہ وائرس زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے جہاں ممبئی کی ایک کروڑ 25 لاکھ کی آبادی کا نصف حصہ آباد ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تجربہ کیا گیا نمونہ ‘شماریاتی طور پر مضبوط’ اور بہتر نمائندگی کرنے والا تھا۔ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈمنٹل ریسرچ (ٹی آئی ایف آر) کے ڈاکٹر الاس ایس کولتھر نے بتایا کہ ‘ٹیسٹ کے لیے ہم نے جن تین علاقوں کا انتخاب کیا ان میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی تعداد زیادہ تھی اور وہ کچی آبادی اور رہائشی مکانات اور کمپلیکسز پر مشتمل ہے، خیال یہ تھا کہ آیا آبادی کی کثافت انفیکشن کے پھیلاؤ میں تبدیلیاں لا رہی ہے یا نہیں؟’۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سروے پورے شہر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی نمائندگی کا دعوی نہیں کرتا، انتظامی یونٹ علاقوں کے 24 ‘وارڈز’ میں سے صرف تین میں انجام دیا گیا تھا۔ٹی آئی ایف آر کے ایک اور محقق ڈاکٹر سندیپ جنیجا کا کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے علاقوں میں پھیلاؤ کی شرح سروے کی تعداد سے بہت دور نہیں ہونا چاہیے’۔دوسرے بڑے شہوں کے سروے کے نتیجے میں آبادی کے درمیان پھیلاؤ کی شرح کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔بالترتیب مئی اور جولائی میں ہونے والے سروے کے مطابق ، لندن کے ہر چھ رہائشیوں میں سے ایک اور نیو یارک شہر میں پانچ میں سے ایک کا اینٹی باڈیز ٹیسٹنگ میں مثبت تجربہ کیا گیا۔جولائی میں دہلی میں ہونے والے ایک سرکاری سروے میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی دارالحکومت میں چار میں سے ایک رہائشی کورونا وائرس کا سامنا کرچکا ہے۔ممبئی کی کچی آبادی میں پھیلاؤ کی اعلی شرح کو جزوی طور پر اس حقیقت سے سمجھا جاسکتا ہے کہ رہائشیوں میں بیت الخلا جیسی عام سہولیات کا اشتراک ہوتا ہے۔ڈاکٹر سندیپ جونیجا کا کہنا تھا کہ ‘نتائج سے ظاہر ہوا کہ کس طرح ہجوم انفیکشن کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے’۔اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا حصہ وائرس سے متاثر ہوا تھا تاہم کم یا کوئی علامات نہ ہونے کے باعث وائرس کو شکست دینے میں کامیابب ہوا جس کی وجہ سے ان علاقوں میں اموات کی شرح کم رہی، اس سے شہر بھر میں موت کی شرح کم ہوجاتی ہے۔اور یہ معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر خواتین کو کچی آبادی اور دیگر علاقوں میں وائرس کا سامنا رہا ہے۔ڈاکٹر الاس ایس کولتھر نے کہا کہ ‘یہ بہت دلچسپ ہے، ہمیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہے، یہ معاشرتی طرز عمل سے لے کر بنیادی جسمانی تبدیلیوں تک کچھ بھی ہوسکتا ہے’۔ممبئی میں کیسز میں کمی کے ساتھ ہی سروے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا یہ شہر انفیکشن کے معاملے میں ہرڈز امیونٹی کی جانب جارہا ہے۔ممبئی میں منگل و 717 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو تین ماہ کی سب سے کم تعداد ہے۔ہرڈ امیونٹی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کافی لوگوں کا کسی وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس کے خلاف اپنا مدافعتی نظام مضبوط ہوجائے۔ڈاکٹر الاس ایس کولتھر ڈاکٹر کولتھر کہتے ہیں ‘اس کا فیصلہ کیا جانا ابھی باقی ہے، ہم ابھی تک نہیں جان سکتے کہ انفیکشن سے کتنی دیر تک قوت مدافعت برقرار رہتی ہے، ہمیں دوبارہ سروے کے بعد ہی اس کا جواب معلوم ہوگا’۔اگست میں ان تینوں علاقوں میں سروے کو دہرایا جانا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اس انفیکشن کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے یا کم ہو گیا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اینٹی باڈیز کی موجودگی ضروری طور پر اس بیماری کے خلاف تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی ہے اور یہ کہ تمام طاقتور غیرجانبدار اینٹی باڈیز کی مقدار انفیکشن سے استثنیٰ کی سطح کا فیصلہ کرتی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا اینٹی باڈیز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ 90 دن میں اس کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے۔تھنک ٹینک پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر کے سری ناتھ ریڈی کا کہنا ہے کہ ‘ہم ابھی تک بہت کچھ نہیں جان سکے ہیں کہ کیسے ہمارے اور وائرس کے درمیان جاری تصادم ہمارے مدافعتی ردعمل کو تشکیل دے رہا ہے، ہم اس وقت صرف امید کے ساتھ انتظار کرسکتے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں