بچوں نے دنیا کا سب سے بڑا شیشے کا قلعہ چکنا چور کردیا

یوں تو بچوں کی شرارتیں لازم و ملزم ہیں اور گھر میں رونق کی وجہ ہوتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہo شرارتیں خود ان کے لیے نقصان کے باعث بنتی ہیں یا دوسروں کو مشکل سے دوچار کردیتی ہیں۔کچھ ایسا ہی شنگھائی میوزیم آف گلاس میں ہوا جہاں نمائش کے لیے رکھا جانے والا شیشے سے بنا دنیا کا سب سے بڑا قلعہ 2 بچوں کے کھیل کے دوران زمین بوس ہوگیا۔اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق ہسپانوی شییشہ گر میگوئیل ایریباس نے سنڈریلا کے قلعے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کانچ سے بنا شاہکار، سنکی محل 500 گھنٹوں میں بنایا تھا لیکن 2 بچوں نے اسے ایک سیکنڈ میں برباد کردیا۔گزشتہ ہفتےشنگھائی میوزیم آف گلاس نے اعلان کیا تھا کہ نمائش کے لیے رکھا جانے والا میگوئیل ایریباس کا فنٹیسی قلعہ ٹوٹ گیا ہے۔اعلان میں بتایا گیا کہ میوزیم کے اندر کھیلتے ہوئے 2 بچوں نے اسے حادثاتی طور پر گرادیا تھا جس کے باعث ٹوٹ گیا۔

شیشے کے قلعے کا وزن 60کلوگرام تھا—فوٹو:اوڈیٹی سینٹرل
شیشے کے قلعے کا وزن 60کلوگرام تھ

خیال رہے کہ یہ قلعہ 2016 میں میوزیم کی پانچویں سالگرہ پر تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور میگوئیل ایریباس نے اس میں 5 لاکھ گلاس لوپس کا استعمال کیا تھا اور اس میں 24 قیراط سونا بھی استعمال کیا گیا تھا۔یہ قلعہ تقریباً 30 ہزار انفرادی حصوں سے مل کر بنا تھا جس کے باعث اس کا وزن 60 کلوگرام سے زیادہ تھا اور اس کی مالیت ساڑھے 4 لاکھ یوآن (65 ہزار امریکی ڈالر) تھی۔میوزیم کے ذرائع کے مطابق یہ بدقسمت حادثہ 30 مئی کو پیش آیا تھا جب میوزیم میں اہلخانہ کے ساتھ آنے والے 2بچوں نے کھیلتے ہوئے رکاوٹ کو پار کیا تھا اور قلعے کو گرادیا تھا۔گرنے کی وجہ سے قلعے کا مرکزی حصہ ٹوٹ گیا اور دیگر حصوں کومختلف سطح کا نقصان پہنچا۔اس قلعے کی مرمت کی کوشش کے لیے شنگھائی میوزیم آف گلاس نے میگوئیل ایریباس سے رابطہ کیا ہے لیکن وہ کورونا وائرس کی وجہ سے سفری پابندیوں کے باعث چین کا سفر نہیں کرسکتے۔دوسری جانب بچوں کے والدین نے حادثے پر معافی مانگی ہے اور قلعے کی مرمت کی ذمہ داری اٹھانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں