گیس کمپنیوں کی قیمت میں اضافے سے متعلق درخواستیں مسترد

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی سال 21-2020 کے لیے گیس کی دو کمپنیوں کی مقررہ قیمتوں میں 2 سے 6 فیصد کمی کا تعین کیا ہے تا کہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات گیس صارفین تک پہنچائے جاسکیں۔ ریگولیٹر نے ہر قسم کے صارفین کو فروخت کی جانے والی گیس کی قیمتوں کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ(ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کی آمدن کی ضروریات پر 2 علیحدہ مجوزہ قیمتیں ارسال کیں۔خیال رہے کہ گیس کی لاگت میں 26 فیصد کمی کے باوجود سوئی سدرن نے گیس کی قیمتوں میں 38 روپے فی یونٹ (6 فیصد) اضافے کی درخواست کی تھی جبکہ اس کے بڑے صنعتی اور تجارتی صارفین نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے 30 فیصد کمی کا مطالبہ کیا تھا۔دوسری جانب سوئی نادرن نے یکم جولائی سے 622 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے کی درخواست کی تھی اس کے علاوہ کمپنی نے درآمدی گیس کی قیمت میں 102 روپے فی یونٹ کا اضافہ بھی صارفین تک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اوگرا قانون کی دفعہ 8(3) کے تحت سرکاری گزیٹ میں نوٹیفکیشن کے لیے وفاقی حکومت ریگولیٹر کو 40 دنوں کے اندر کم از کم قیمتوں اور ہر قسم کے ریٹیل صارفین کے لیے قیمتوں کی تجویز دینے کی پابند ہے۔یگولیٹر نے ایس این جی پی ایل کے لیے مقررہ قیمت موجودہ قیمت 6 سو 64 روپے 25 پیسے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے بجائے 6 سو 23 روپے 31 پیسے اوسطاً متعین کی۔اوگرا کا کہنا تھا کہ اس نے مالی سال 21-2020 میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے گیس کمپنیوں کے مطالبے کو واضح حد تک کم کردیا ہے اور قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور اوگرا کی جانب سے آمدنی اور اخراجات کے حوالے سے اٹھائے گے اقدامات ہیں۔سوئی ناردرن نے گیس کی قیمت 664.25 سے بڑھا کر 1287.19 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن اوگرا کی جانب سے قیمت کم کرکے 623.31 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔اسی طرح اوگرا نے سوئی سدرن کے لیے گیس کی موجودہ قیمت میں 2 فیصد اور درخواست کے مقابلے میں 17.4 فیصد کمی کی منظوری دی۔سوئی سدرن نے گیس کی قیمت 796.18 سے بڑھا کر 881.53 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم اوگرا کی جانب سے قیمت کرکے 750.90 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔گیس کمپنیوں نے مالی سال 21-2020 کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس مہنگی کرنے کی درخواستیں کی تھیں۔اس حوالے سے عوامی سماعت کے دوران صارفین نے ناکارہ اور بدانتظامی کا شکار گیس کمپنیوں پر سخت تنقید کی تھی کہ کمپنیاں اس بحران کے دور میں کاروبار، معاشی سرگرمیوں، برآمدات، ٹرانسپورٹ اور ملازمتوں کی بحالی میں مدد کے بجائے انہیں بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے فوائد سے محروم رکھ رہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں