بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ مون سون بارشوں کے بعد زیر آب آگیا

جنوبی ایشیاء میں مون سون کے سیلاب سے تقریبا چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، حکام نے بتایا ہے کہ ایک دہائی کی ریکارڈ طوفانی بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے۔ مون سون، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتی ہے، برصغیر پاک و ہند کی معیشت کے لہے بہت اہم ہے تاہم اس سے ہر سال اس خطے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی بھی ہوتی ہے۔بنگلہ دیش کے سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘یہ ایک دہائی کا بدترین سیلاب ہے’۔شدید بارشوں کی وجہ سے دو اہم ہمالیائی دریا متاثر ہوئے ہیں، برہم پتر اور گنگا، جو بھارت اور بنگلہ دیش سے گزرتے ہیں۔عارف الزمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے اور گاؤں کے گھروں اور سڑکوں کے ساتھ کم از کم 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ فاروق احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ شمال وسطی بنگلہ دیش میں دریائے برہم پتر معمول سے 40 سینٹی میٹر (16 انچ) اونچی ہے اور جس سے اس کے پھٹنے کا خطرہ تھا۔حکام نے بتایا کہ زیادہ تر دیہاتی اپنے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے قریب ہی رہنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم تقریبا 15 ہزار شدید متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔10 روز کی پیشگوئی کے ساتھ بڑھتے ہوئے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، عارف الزمان نے کہا کہ اگر مزید دریاؤں کے کنارے پھٹ گئے تو ملک کا 40 فیصد حصہ ‘انتہائی خراب صورتحال میں’ سیلاب کی زد میں آسکتا ہے۔شمالی قصبے بسوامبھر پور کے دیہاتیوں نے بتایا کہ شمال مشرقی بنگلہ دیش کا ایک بڑا دریا سورما کے کنارے پھٹ جانے کے بعد زیادہ تر مکانات جزوی طور پر زیر آب آگئے تھے۔35 سالہ کسان عبدالرشید نے بتایا کہ اس نے اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو گاؤں کے کثیر المنزلہ اسکول میں بھیج دیا ہے جو ایک سرکاری شیلٹر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا پورا گھر زیر آب آگیا ہے، میں نے اپنے تمام اہلخانہ کو اسکول بھیج دیا ہے تاہم میں خود نہیں گیا اور یہاں اپنی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے رک گیا ہوں’۔شمال مشرقی بھارت کے شہر آسام میں مئی کے وسط سے اب تک 21 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سیلاب کے پانی میں اضافے کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔ایمرجنسی سروسز کے عملے نے سیلاب اور کورونا وائرس سے خود کو بچانے کے لیے سر سے پیر تک نارنجی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور وہ پھنسے ہوئے دیہاتیوں تک پہنچنے کے لئے کشتیوں کا استعمال کررہے تھے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس نے آسام میں تقریبا 17 ہزار افراد کو متاثر کیا ہے۔مقامی ریسکیو ٹیم کے سربراہ ابھیجیت کمار ورما نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘ہمارے یہاں دو چیلینجز ہیں، ایک کورونا وائرس اور دوسرا سیلاب ہے’۔نیپال میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے کم از کم 50 افراد ہلاک اور سینکڑوں مکانات بہہ گئے اور سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں