مالی سال 20-2019: ریونیو وصولی میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا

اسلام آباد: مالی سال 20-2019 میں ریونیو وصولی میں سالانہ حساب سے 3.9 فیصد کی شرح نمو رہی جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے کمی ہے۔18 مارچ سے حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا جس میں مئی کے دوسرے حصے میں نرمی کی گئی تھی۔ ریونیو وصولی مئی تیزی سے کمی اپریل اور مئی کے مہینوں میں دیکھی گئے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب 16 فیصد اور 30.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔تاہم جون میں ریونیو وصولی میں کچھ بہتری آئی تھی اور اسے 12 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا کیونکہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کردی تھی۔اس مہینے کے دوران ریونیو وصولی 415 ارب روپے ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 472 ارب روپے تھے۔پچھلے سال کی وصولی میں جون میں ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے جمع ہونے والے 50 ارب روپے بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ جون 20-2019 میں کے لیے نظر ثانی شدہ متوقع ہدف 398 ارب روپے تھا۔پیش کیے گئے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جون اور جولائی کے درمیان 39 کھرب 67 ارب روپے جمع کیے ہیں جبکہ مالی سال 2019 میں 39 کھرب 26 ارب وصول ہوا تھا جو 3.9 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ایف بی آر کے لئے نظرثانی شدہ سالانہ ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف 39 کھرب 8 ارب روپے تھا۔واضح رہے کہ بک ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے اگلے چند ہفتوں میں ریونیو وصول کرنے کے اعدادوشمار کو حتمی شکل دی جائے گی جس سے ایف بی آر کو مزید کچھ ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی معاشی سست روی کی وجہ سے تیسری مرتبہ ریونیو اکٹھا کرنے کے ہدف کو 48 کھرن کم کرکے 39 کھرب 8 ارب روپے کردیا تھا۔ایف بی آر کا اندازہ ہے کہ اوسطا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ماہانہ آمدنی میں 223 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس کورونا وائرس سے پہلے کی مدت میں ایف بی آر نے جولائی تا فروری کے لیے ٹیکس وصولی کے ہدف سے 484 ارب روپے پیچھے رہا تھا اور 32 کھرب 9 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 27 کھرب 25 ارب روپے وصول کرسکا تھا۔تاہم مالی سال 2020 کے 8 ماہ میں ریونیو میں 16.35 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اتنی ہی مدت میں 23 کھرب 42ارب روپے اکٹھے ہوے تھے۔کورونا وائرس سے پہلے کی صورتحال میں سامنے آنے والے شارٹ فال کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہدف کو 52 کھرب 70 ارب روپے سے کم کرکے 48 کھرب روپے کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں