2019 میں سرکاری مراعات پر ٹیکس استثنیٰ کی لاگت 30 ارب روپے تھی، ایف بی آر

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک سرکاری رپورٹ میں ٹیکس سال 2019 میں اعلی سرکاری عہدیداروں، فوجی افسران اور اعلی عدالتوں کے ججز کو دی جانے والی 30 ارب روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ اور مراعات کا بتایا گیا ہے۔ یہ تخمینے ایف بی آر کی تیار کردہ ’ٹیکس اخراجات 2020‘ سے متعلق پہلی جامع رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جس نے سرکاری ملازمین کی پینشن اور تبادلے میں ٹیکس اخراجات پر خصوصی ضمیمہ تیار کیا ہے۔ٹیکس کے اخراجات ایک تکنیکی اصطلاح ہے جس سے مراد ریاست کی آمدنی کی رقم ہوتی ہے جسے وہ ٹیکس استثنیٰ یا چھوٹ دیتا ہے۔ایف بی آر کی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کے ججز کو مکان کے کرائے کے الاؤنس پر چھوٹ کی لاگت کا تخمینہ 3 کروڑ 20 لاکھ روپے تھا۔ٹیکس سال 2019 میں حاضر سروس ججز کی کل تعداد 130 تھی جس میں سے کل مکان کے کرائے کا الاؤنس 12 کروڑ 71 لاکھ 71 ہزار روپے تھا۔سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹ کے ججز کے ذریعہ وصول کی جانے والی مراعات، فوائد اور الاؤنسز پر چھوٹ کی کل لاگت کا تخمینہ 28 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے، ٹیکس اخراجات 25 فیصد کی شرح سے لگایا جاتا ہے۔ایف بی آر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعلی عدالتی الاؤنس کی مالیت ججز کے لیے 52 کروڑ 65 لاکھ 7 ہزار روپے ہے جبکہ حاضر سرور اور ریٹائرڈ ججز کے لیے اجازت ناموں کی مالیت 60 کروڑ 52لاکھ 80 ہزار ہے۔سابقہ الاؤنس خصوصی طور پر 130 حاضر سروس ججز کے لیے ہے جبکہ دوسری رعایت دونوں ان سروس اور 390 ریٹائرڈ ججز کے لیے ہے۔صدر پاکستان ، گورنرز اور پاک آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کے لیے رہائش پر کرائے کی مفت چھوٹ 02 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔کسی بھی پاکستانی ایئر لائن کے پائلٹس کے لیے رعایتی نرخ کی لاگت کا تخمینہ 4 کروڑ 30 ملین ہے۔اسی طرح پرواز بھرنے اور آبدوز الاؤنس پر کم نرخوں کی لاگت کا تخمینہ 13 کروڑ 03 لاکھ روپے ہے۔شہدا کے اہل خانہ کو ملنے والی آمدنی پر استثنیٰ کی لاگت 8 کروڑ 04 لاکھ روپے آتی ہے جبکہ مسلح افواج کے اہلکاروں کو ادا کیے جانے والے مختلف الاؤنسز کی لاگت کا تخمینہ ایک ارب 10 کروڑ 06 لاکھ روپے ہے۔رپورٹ میں افواج پاکستان کے چیف آف اسٹاف اور کور کمانڈرز کو دیئے جانے والے مفت نقل و حمل اور سمپچیوری (انٹرٹینمنٹ) الاؤنسز کی لاگت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ملازمین (سفارت کاروں) کو غیر ملکی الاؤنسز کی لاگت کا تخمینہ ایک ارب 16 کروڑ 07 لاکھ روپے ہے۔جہاں پینشن اور پینشن کی نقل و حمل کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے وہیں اس رپورٹ میں پینشن کے اعداد و شمار کا استعمال چار صوبائی اور وفاقی اکاؤنٹنٹ جنرل اور پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹ اور فوج کے لیے علیحدہ اکاؤنٹنٹ جنرلز کرتے ہیں۔پینشن پر چھوٹ کی لاگت 4 لاکھ سے زائد کی پینشن والے افراد کے لیے ہے۔اس رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پینشن میں چھوٹ کی وجہ سے ہونے والے ریونیو پر اثرات 13 ارب 68 کروڑ روپے ہیں۔ ٹیکس سال 2019 میں ادا کی جانے والی پنشن کی کل رقم پاکستان بھر میں 276ارب 40 کروڑ روپے ہے۔ان ادائیگیوں میں سب سے زیادہ حصص صوبہ پنجاب کا ہے جو 87 ارب 39 کروڑ روپے یا مجموعی طور پر 31.6 فیصد رہا، اس کے بعد فوج کا 81 ارب 17 کروڑ (29.36 فیصد)، سندھ کا 56 ارب 56 کروڑ (20.4 فیصد)، خیبر پختونخوا میں 22 ارب 71 کروڑ (8.2 فیصد)، وفاقی حکومت 11 ارب 18 کرو( 4.04فیصد)، بلوچستان 9 ارب 17 کروڑ (3.31 فیصد)، پاکستان ریلوے 6 ارب 74 کروڑ (2.43 فیصد) اور پاکستان پوسٹ 1 ارب 47 کروڑ (0.53 فیصد) ہے۔ان اعداد و شمار میں صرف وہی پینشن شامل ہے جس کی حد سالانہ 4 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں