کمپنی کی جانب سے کام نہ کرانے پر بیزار ملازم کو 93 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم

ذرا سوچیں کہ آپ کسی کمپنی میں ملازمت کررہے ہیں اور وہ کوئی کام نہیں لے رہی تو آپ کیا کریں گے؟فرانس میں ایسا ایک شخص کے ساتھ ہوا تو اس نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرکے 50 ہزار یورو (93 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہرجانے کی شکل میں حاصل کرلیے ہیں کیونکہ کمپنی کی جانب سے کسی کام نہ دیئے جانے پر وہ بیزار ہوگیا تھا۔فریڈرک ڈینسارڈ نامی شخص نے پیرس کی ایک عدالت میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ وہ اس بیزاری کے نتیجے میں مسائل کا شکار ہورہا تھا۔اس نے بتایا کہ جب سے وہ اس پرفیوم کمپنی کا حصہ بنا، اسے نہ ہونے کے برابر کام کرنے کو ملا۔اس کا کہنا تھا ‘کسی کو پروا نہیں تھی کہ میں صبح 9 بجے آتا ہوں یا 10 بجے، مجھے بس چند سپلائیز خریدنا ہوتی، کچھ کاغذ کی شیٹس اور بس میرا دن ختم’۔فریڈرک نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے لیے ایسے کام چھوڑے گئے تھے جو اس کی ملازمت کا حصہ نہیں تھے اور وہ اصل ذمہ داریوں کے لیے ترس رہا تھا۔اس نے کہا کہ وہ خود کو تباہ حال محسوس کرتا ہے اور شدید ڈپریشن کا شکار ہوچکا ہے۔فریڈرک کا کہنا تھا ‘مجھے شرم آتی ہے کہ مجھے کچھ نہ کرنے پر تنخواہ دی جارہی ہے’۔کمپنی کے ایک ملازم نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ فریڈرک کی حالت اتنی خراب ہوگئی تھی کہ اس نے خودکشی کی بھی کوشش کی۔اس کا کہنا تھا ‘فریڈرک کچھ نہ کرنے پر تھک چکا تھا، اس صورتحال نے اسے اتنا دلبرداشتہ کردیا کہ وہ خودکشی کرنے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بات کرنے لگا’۔فریڈرک کا کہنا تھا کہ تناؤ اور دفتر میں کچھ نہ کرنے سے بتدریج وہ خود کو ڈرائیونگ کے لیے بھی نااہل سمجھنے لگا۔اس کے نتیجے میں 7 ماہ بعد کام پر جانا چھوڑ دیا اور ستمبر 2014 کے بعد نقصانات کی تلافی کے لیے کوشش شروع کردی۔دوسری جانب کمپنی کا موقف تھا کہ فریڈرک انتظامیہ کو یہ احساس دلانے میں ناکام رہا تھا کہ بیزار یا بور آؤٹ ہوچکا ہے۔اس کیس کی سماعت 2016 سے جاری تھی اور اب جاکر فریڈرک نے اس میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب فرانسیسی کمپنیوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ملازمین کام کے دوران بہت آسانی سے بیزار نہ ہوجائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں